.

لبنانی حکومت سے حزب اللہ کو نکیل ڈالنے کا مطالبہ

سعودی عرب پر تنقید قابل قبول نہیں: جعجع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے لبنان کی سیکیورٹی فوسز کی امداد روکے جانے کے اعلان کے ردعمل میں جہاں بعض سیاسی جماعتوں نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے وہیں ملک بیشتر سیاسی قیادت سعودی اقدام کو ایران نواز حزب اللہ کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان کی ایک سرکردہ سیاسی جماعت ’لبنانی فورسز‘ کے سربراہ سمیر جعجع نے سعودی عرب کی جانب سے لبنانی فوج کی امداد روکنے کی تمام ذمہ داری حزب اللہ پرعاید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے وہ حزب اللہ کو ریاض پر یلغار سے روکے۔ ادھر لبنانی کابینہ کے حزب اللہ مخالف وزیرعدل اشرف ریفی نے میچل سماحہ کیس کو اعلیٰ عدالتی کونسل میں پیش نہ کیے جانے کے خلاف بہ طور احتجاج استعفیٰ پیش کردیا ہے۔

وزیر انصاف کے استعفے سے متعلق الحدث ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سمیر جعجع نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مارچ گروپ 14 حکومت میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے لبنان اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو کابینہ میں مزید وزراء بھی اپنے استعفے دے سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سمیر جعجع نے بیروت حکومت کے حزب اللہ کے حوالے سے اختیار کردہ موقف کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حزب اللہ کو سعودی عرب کے خلاف جارحیت اور بلا جواز الزام تراشی سے منع کرے۔

ادھر لبنانی رکن پارلیمنٹ سامی الجمیل نے ’العربیہ‘ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ لبنان ایران کا باجگزار ملک بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی قوم سعودی عرب کے احسانات کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ سعودی بھائیوں نے مشکل وقت میں کئی سال تک ہماری مدد کی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب نے بیروت کے بعض متنازعہ اقدامات کے باعث لبنان کی فوجی امداد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد لبنان کی بیشتر سیاسی قیادت نے سعودی اقدام کو ایران نواز حزب اللہ کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔