.

’سیلفی‘ جو زندگی کی آخری یادگار ثابت ہوئی!

سعودی عرب کے چار اساتذہ سیلفی بنانے کے کچھ دیر بعد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیلفی کا شوق دنیا میں بھرتیزی سے پھیل رہا ہے مگر ضروری نہیں سیلفی بنانے کا موقع بار بار ملتا رہے۔ ممکن ہے چند افراد کی اجتماعی یا کسی کی انفرادی سیلفی ان کی زندگی کی آخری یادگار ثابت ہو اور اس کے بعد انہیں زندگی میں اپنی تصویر بنانے کا موقع نہ مل سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب میں اساتذہ کے ایک گروپ کا ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ نقل کیا ہے،جنہوں نے گاڑی میں بیٹھے اپنی سیلفی بنائی مگروہ ان کی زندگی کی آخری یادگار ثابت ہوئی اس کے بعد فرشتہ اجل نے انہیں بلا لیا۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سعودی عرب کی اللیث گورنری میں پرانے مکہ شہر میں چار اساتذہ نے دوران سفر وین میں اپنی سیلفی بنائی لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ اس سیلفی کے بعد ان کی زندگی اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سیلفی بنانے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی گاڑی مخالف سمت سے آنے والی ایک دوسرے گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود چاروں معلمین داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

ان کی آٰخری یاد گار سیلفی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے اور حادثے میں ہونے والی اموات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی اساتذہ کی گاڑی کو حادثہ شمالی اللیث میں طفیل کے مقام پر پیش آیا۔ دوسری گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں ان کی گاڑی کو آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں چاروں اساتذہ جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔