سعودی نوجوان کے قتل کی تفصیلات "العربیہ ڈاٹ نیٹ" پر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز منظرعام پر آنے والے اندوہ ناک وڈیو کلپ نے ایک مرتبہ پھر سعودی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ کلپ میں القصیم صوبے میں چند داعشیوں کو اپنے ایک عزیز کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارتے دکھایا گیا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے پہلی مرتبہ واقعے کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے... جس کے مطابق مقتول بدر الرشیدی کے خالہ زاد بھائی وائل نے جو ریاض کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ہے، بدر کو فون کرکے کہا کہ اس کی والدہ نے بدر کی والدہ کے لیے کچھ سامان دیا ہے جو بدر کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ بدر اپنی بیوی کو بتا کر سامان لینے کے لیے رات کے وقت گھر سے نکل گیا تاہم جب رات گئے تک اس کی واپسی نہ ہوئی اور بار بار کی جانے والی فون کالز کا بھی جواب نہیں آیا تو اس کی بیوی کو شک ہوا اور اس نے بدر کے بھائیوں کو اطلاع کردی۔

قتل کا واقعہ بریدہ شہر کو عنیزہ صوبے سے ملانے والی ہائی وے پر ایک ایندھن اسٹیشن کے نزدیک پیش آیا جہاں کام کرنے والوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔ بعد ازاں مقتول کی لاش زمین پر پڑی ہوئی ملی جس کو چھ گولیاں ماری گئیں تھیں۔

ادھر مقتول کے بھائی بندر حمدی نے بتایا کہ اس کی خالہ کے بیٹوں نے بدر کو اپنے ساتھ سوار کرنے کی کوشش کی مگر اس میں کامیاب نہ ہوسکے تو بدر کو اسی جگہ موت کے گھاٹ اتار دیا۔

حمدی نے بتایا کہ اس کے بھائی کی عمر تیس سال تھی.. وہ دو بیٹوں کا باپ تھا اور اس کے یہاں تیسری اولاد ہونے والی ہے... بدر اپنی والدہ اور ساتھ رہنے والے ایک معذور بھائی کی بھی ذمہ داری اٹھا رہا تھا۔

حمدی کے مطابق بدر کنگ فہد ہسپتال سے اپنے معذور بھائی کی دوا لانے اور والدہ کے اس سامان کو لینے کے لیے گھر سے باہر تھا جس کے بہانے مجرموں نے اس کو بلایا تھا۔

حمدی نے بتایا ک جرم میں ملوث افراد کی تعداد 6 ہے۔ ان میں وائل، معتز،نائل (خالہ کے بیٹے) اور زاهر، سامی (چچا کے بیٹے) کے علاوہ ابراہیم خلیف نامی ایک قریبی عزیز شامل ہیں۔ حمدی نے مزید بتایا کہ یہ لوگ ایک سے زیادہ افراد کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور انہوں نے کئی عزیزوں سے رابطہ کیا جن میں سے بعض کے موبائل فون بند تھے جس کی وجہ سے وہ ان تک نہیں پہنچ سکے... صرف بدر الرشیدی ہی ان کے ہاتھ آیا جس کو انہوں نے شکار بنا ڈالا۔

بندر حمدی کا کہنا ہے کہ مجرموں میں شامل وائل ریاض کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ اسی طرح معتز بھی ایک کمپنی میں انجینئر ہے۔ حمدی نے واضح کیا کہ ان لوگوں کے ساتھ صرف قرابت داری کا تعلق ہے اور عید اور دیگر مواقع پر ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ لوگ اس مجرمانہ منصوبے پر عمل کرنے کے لیے ریاض سے آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں