سینئر اپوزیشن مذاکرات کار 'دہشت گرد' ہیں: بشار الجعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جنیوا مذاکرات میں شریک شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشار الجعفری کا کہنا ہے کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کے ساتھ بات چیت معاملات کی گہرائی میں جانے سے زیادہ رسمی نوعیت کی رہی۔

اپوزیشن کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پہلے تو الجعفری ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور پھر آخر کار یہ جواب دیا کہ شامی حکومت ایک "دہشت گرد" کے ساتھ ہر گز مذاکرات نہیں کرے گی۔ ان کا اشارہ مذاکرات کے لیے شامی اپوزیشن کی سپریم کمیٹی کے سینئر مذاکرات کار محمد علوش کی جانب تھا۔ الجعفری نے کہا کہ " کوئی بھی تجویز ہو.. اسے وساطت کار کی جانب سے آنا چاہیے نہ کہ میڈیا کے ذریعے"۔

انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات دہرائی کہ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپوزیشن وفد کی نمائندگی پر اجارہ داری قائم کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے حوالہ دیا کہ ڈی مستورا کے ساتھ اس موضوع پر بات ہوئی ہے کہ اپوزیشن کی نمائندگی میں توسیع کی جائے تاکہ بعض کرد فریق بھی شامل ہوسکیں۔

اس دوران انہوں نے فیڈرل ریجن کے حوالے سے کردوں کے آخری بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے.. "زمینی اور عوامی طور پر شام کی مجموعی یک جہتی" پر زور دیا۔ الجعفری نے کہا کہ "میں کسی جانب دار بیان پر تبصرہ نہیں کروں گا.. کرد یقینا شامی عوام کا ایک اہم حصہ ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے.. اور ان اختلافات پر قمار بازی ناکامی سے دوچار ہوگی"۔

جہاں تک شام سے روسی انخلاء کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بشار الجعفری کا کہنا تھا کہ "روسی مشترکہ فیصلے سے شام آئے تھے.. اور مشترکہ فیصلے سے ہی (واپس) جائیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں