.

'اقوام متحدہ الانبار کے مہاجرین کے لئے فکر مند ہے'

تنظیم کے مطابق 35 ہزار افراد پناہ کی تلاش میں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے عراق کے الانبار صوبے میں محاذ جنگ کے پاس سے گھر بدر ہونے والے 35 ہزار افراد کے مستقبل کے حوالے سے خدشات ہیں۔

ہزاروں شہری بغداد سے 145 کلومیٹر دور اس علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں جہاں پر سیکیورٹی فورسز اور داعش کے درمیان لڑائی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کی عراق میں معاون برائے انسانی امور لیز گرانڈے کا کہنا ہے کہ "اقوام متحدہ کو علاقے تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہے اور ہم محاذ جنگ کے قریب سے فرار ہونے والے خاندانوں کی حفاظت کے حوالے سے پریشان ہیں۔"

یو این کے مطابق امدادی ایجنسیاں کھانے، پانی اور حفظان صحت کی کٹس پہنچا رہے ہیں مگر متاثرہ علاقوں تک رسائی مشکل ہوتی جارہی ہے۔

انبار کا علاقہ 'ھیت' فرات کے قلب میں واقع ہے اور یہاں پر داعش کا قبضہ ہے۔ عراقی فورسز الانبار کو واپس لینے کی جنگ میں مصروف ہیں اور یہ علاقہ جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

گرانڈے کا کہنا تھا کہ "موبائل کلینکس نے پہلے دو دنوں کے دوران 1300 افراد کو طبی امداد فراہم کی۔" یو این کے مطابق 53 ہزار افراد اس سال میں انبار سے ہجرت کرچکے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ 2014ء سے عراق سے شروع ہونے والی ہجرت کے 33 لاکھ افراد میں سے 44 فی صد افراد کا تعلق انبار سے ہے۔