.

ایران ثالثی کا طالب ۔۔۔ سعودی عرب مداخلت روکنے پر مصر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے مملکت کے ساتھ اختلافات کے حل کے لیے کویت سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی جو درخواست کی تھی، سعودی عرب نے اس کا جواب نہیں دیا.. اس لیے کہ مملکت کے نزدیک تہران کے ساتھ تعلقات کی درستی کوئی دوطرفہ مسئلہ نہیں اور سعودی عرب اس سلسلے میں خلیجی اور عرب دو خطوں کے مفادات کی نمائندگی کر رہا ہے۔

سعودی روزنامے "عكاظ" نے دارالحکومت ریاض میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ان کوششوں پر کسی بھی سرکاری ردعمل کا امکان خارج از امکان ہے، جن کے بارے میں سنا جا رہا ہے کہ کویت ایران کی درخواست پر ان میں مصروف عمل ہے تاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال ہو سکیں اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کا نیا دور شروع ہو سکے۔

ذرائع نے باور کرایا کہ سعودی عرب کا خیال ہے کہ تہران اور مشہد میں اس کے سفارتی مشنوں پر حملہ ہی واحد مسئلہ نہیں، بلکہ ایران یمن، شام، عراق، بحرین، لبنان اور خود کویت میں بھی مداخلت کر کے فساد پھیلا رہا ہے۔

ایران نے اپنا انٹیلجنس کا وزیر بھیجا

کویتی روزنامے "الراي" نے ہفتے کے روز خلیجی سفارتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے اپنے انٹلیجنس کے وزیر محمود علوی کو ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے ایک تحریری پیغام کے ساتھ بھیجا تھا، جو کویت کے ساتھ خصوصی دو طرفہ تعلقات اور خلیجی ممالک کے ساتھ عمومی تعلقات سے متعلق تھا، ساتھ ہی اس بات کی بھی شدید خواہش شامل تھی کہ خطے میں اختلافات کو بیرونی مداخلت کے بغیر "خطے میں رہنے والوں کی جانب سے" ہی حل کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق کویت کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ الشيخ محمد الخالد نے پانچ خلیجی ممالک کی قیادت کو یہ پیغام پہنچا دیا تھا کہ ایرانی قیادت "پرسکون مکالمے کے ذریعے معلق مسائل کے حل" کے اصول پر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھولنا چاہتی ہے۔

کویت کا ایران سے مداخلت روکنے کا مطالبہ

خلیجی ذرائع نے واضح کیا کہ کویت نے ایرانی اعلیٰ اہل کار سے مطالبہ کیا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ کویت نے بحرین اور یمن میں ہونے والی مداخلتوں، سعودی عرب کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں اور کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں مسلح نیٹ ورک اور گروپوں کے انکشاف کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کو بھی پیش کیا۔

اسی طرح کویتی قیادت نے شام، ایران اور لبنان میں ایرانی مداخلت اور مکمل طور پر ایرانی نواز لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے خلاف جارحانہ خطاب اور لبنانی حکومت کے فیصلے پر غالب آنے سے متعلق بھی اپنے موقف کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق کویت نے ایران کو واضح کردیا کہ خلیجی ممالک نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی بھی دوسروں کے امور میں مداخلت کی پالیسی کا سہارا نہیں لیا.. اور نہ ہی یہاں اور وہاں آگ بھڑکانے کی کوشش کی تاکہ اس سے سیاسی طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔ "ان ممالک کے پاس کوئی انقلاب نہیں جس کو وہ برآمد کریں اور اسلامی دنیا کی تقسیم میں ان کا کوئی مفاد نہیں"۔

​کویت نے باور کرایا کہ امن و استحکام کی سپورٹ، خطے میں لگی آگوں کو بجھانا اور بحرانوں کو ختم کرنا یہ تمام خلیجی ممالک کی عام پالیسی ہے۔ البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کویت نے ایرانی ذمہ دار کو آگاہ کر دیا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے ایران کو سب سے پہلے خلیجی اور عرب ممالک کے معاشروں میں مذہبی اشتعال انگیزی کو ختم کرنا ہو گا۔ لبنانی شیعہ درحقیقت عرب لبنانی ہے اسی طرح سعودی شیعہ دراصل عرب سعودی ہے اسی طرح تمام ممالک کا معاملہ ہے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ تمام خلیجی ممالک اس امر کے خواہش مند ہیں کہ اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے "ایران کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ گزشتہ تجربات پھر سے نہ دہرائے جائیں جن میں ایران کے اقوال اور افعال میں مکمل طور پر تضاد پایا جاتا رہا"۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی قانون اور خطے کی سطح پر معاہدوں کی پاسداری، مکالمے اور مفاد کے اصولوں کے مطابق تعاون کی پالیسی اور مداخلتوں کو روکا جانا "یہ سب جانے بوجھے امور ہیں جن کی تشریح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں"۔