ایران : خطے میں مداخلت کے مخالفین کو برطرفی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے دھمکی دی ہے کہ اصلاح پسندوں سمیت خطے میں ایرانی مداخلت کے تمام مخالفین کو ہر قسم کے سیاسی منصب سے دور کردیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے سبز انتفاضہ کے احتجاجی مظاہروں میں آواز بلند کی تھی اور فلسطین اور لبنان کے معاملات میں مداخلت کو ترجیح دینے کے بجائے ایران کی مشکلات اور بحرانوں میں اضافہ کیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ایجنسی "مشرق" نے سلیمانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ "جن لوگوں نے 2009 میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ "نہ غزہ نہ لبنان ، ایران پر میری جان قربان"، یہ لوگ کسی سیاسی منصب پر فائز نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ملک کے بڑے فیصلے کرنے میں ان کا کوئی اہم کردار ہوگا"۔

یاد رہے کہ اصلاح پسندوں اور سبز تحریک کے حامیوں نے 2009ء سے ایسے نعرے لگانا شروع کیے تھے جن میں پاسداران انقلاب اور فیلق القدس کی عرب ممالک میں مداخلت کی مذمت کی گئی۔

اس کے علاوہ انہوں نے عرب ملکوں میں بالخصوص 2011 میں بشار الاسد کے خلاف عوامی بیداری کی حمایت میں بھی آواز بلند کی تھی۔ اس کے نتیجے میں پاسداران نے ان کی ریلیوں کو پوری طاقت سے کچل ڈالا اور سبز تحریک کے دو اہم رہ نما میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کو نظر بند کردیا۔ اس کے ساتھ ہی سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا دی۔

ایرانی مسلح افواج کے نائب سربراہ جنرل مسعود جزائری نے رواں ماہ کی 8 تاریخ کو دھمکی دی تھی کہ یمن میں حوثی انقلابیوں کی مدد کے لیے ایرانی فوج بھیجی جائے گی۔

یہ اقدام تہران کی جانب سے بشار الاسد کی حکومت کو سپورٹ کی طرز پر ہوگا جو شام میں اپنے عوام کا قتل عام کررہی ہے۔

خطے میں ایرانی توسیع کو برقرار رکھنے کے لیے پاسداران انقلاب عسکری وجود اور خطیر رقم کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ اس طرح وہ عرب ممالک میں تہران کے حلیفوں اور دہشت گرد ملیشیاؤں اور گروہوں کو سپورٹ کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ایرانیوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر اس کی مخالفت کی جارہی ہے جن کا کہنا ہے کہ ملک میں لاکھوں غریب شہری ان رقوم کے زیادہ ضرورت مند ہیں۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے آپ کو معاشی اور اقتصادی بحرانوں ، غربت ، بے روزگاری سے بچانے کے لیے فوری اور جلد حل کی ضرورت ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں بھوک کے ستائے ہوئے لوگوں کے انقلاب کا خطرہ ہے۔ لہذا ایرانیوں کی محرومی اور خطے میں امن و سلامتی کے خطرے پر سمجھوتہ کرکے خطے میں ایرانی ملائیت کے نظام کی توسیع کی طمع کا پیٹ بھرنے پر رقم خرچ نہ کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں