.

اسلامی ممالک کے عسکری اتحاد کا اجلاس آج ریاض میں طلب

اتحاد کی تشکیل کے بعد پہلا باضابطہ اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مسلمان ممالک پر مشتمل اسلامی عسکری اتحاد کا اجلاس آج [اتوار کو] ریاض میں طلب کیا گیا ہے۔ عسکری اتحاد کے تشکیل پانے کےبعد یہ اس کا پہلا باضابطہ اجلاس ہے جس میں اتحاد کے ملٹری حکمت عملی کے نفاذ کے طریقہ کار، اتحاد کی نظریاتی بنیادوں کی تشکیل اور اس کے مالیاتی اور ابلاغی شعبہ جات کے قیام پرغور کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اسلامی ممالک کے عسکری اتحاد کی تشکیل کا سہرا سعودی عرب کے وزیردفاع اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سر جاتا ہے جنہوں نے گذشتہ برس دسمبر دہشت گردی کی لعنت سے لڑنے کے لیے مسلمان ملکوں پر مشتمل اتحاد کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کی اس تجویز کو کافی پذیرائی ملی، جس کے بعد اب تک اس اتحاد میں پاکستان سمیت 34 مسلمان ملک شامل ہو چکے ہیں۔

اسلامی عسکری اتحاد کا بنیادی ہدف بالعموم پوری دنیا بالخصوص مسلمان ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے کوششوں کو مجتمع کرنا ہے اور مل کر مسلمان ممالک کا دفاع اور استحکام یقینی بنانا ہے۔

یہ اتحاد ایک ایسے وقت میں تشکیل پایا ہے جب پوری دنیا دہشت گردی کی خوفناک لہروں کی لپیٹ میں ہے۔ مشرق سے مغرب تک دہشت گردی کا ایک خوفناک سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں مسلمان ممالک کا دہشت گردی کے خلاف متحدہ ہونا نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔