مصر: ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کی مخالفت پر 32 جج جبری ریٹائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مصر کی سپریم جوڈیشیل کونسل نے بتیس جج صاحبان کو جبری ریٹائر کردیا ہے۔ان جج صاحبان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے جولائی 2013ء میں مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی حمایت نہیں کی تھی۔

کونسل کے ایک سینیر عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''آج (سوموار کو) سپریم جوڈیشیل کونسل نے بتیس ججوں کو سیاست میں مداخلت اور ایک مخصوص پارٹی کی حمایت کی پاداش میں جبری ریٹائر کردیا ہے''۔

کونسل نے گذشتہ ہفتے بھی اسی طرح کا اقدام کرتے ہوئے پندرہ ججوں کو انہی وجوہ کی بنا پر برطرف کردیا تھا۔ان تمام ججوں کو مارچ 2015ء میں کونسل کے ایک نچلے پینل نے جبری ریٹائر کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ تب سے معطل چلے آرہے تھے۔کونسل نے ماتحت پینل کا ججوں کی برطرفی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

یاد رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے تب قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد صدر ڈاکٹر محمدمرسی کو 3 جولائی 2013ء کو برطرف کردیا تھا اور ان ججوں نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مصری حکومت نے تب سے اخوان المسلمون کے حامیوں ،دوسری جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے ۔اب عالم یہ ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کوئی مخالفانہ آواز سننے اور اس کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے اور حکومت مخالفین کو ان وابستگی سے قطع نظر پکڑ کر پابند سلاسل کیا جارہا ہے۔

کونسل کے اس عہدے دار کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض ججوں نے کھلے عام صدر مرسی کو برطرف کرنے کی مخالفت کی تھی اور انھوں نے ایک تحریری بیان بھی جاری کیا تھا جو قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوک میں پڑھ کر سنایا گیا تھا۔

برطرف صدر کے حامیوں اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکنان نے کئی ہفتے تک رابعہ العدویہ چوک اور النہضہ چوک میں دھرنا دیے رکھا تھا۔مصری فورسز نے 14 اگست 2013ء کو ان مظاہرین کے خلاف خونریز کارروائی کی تھی اور آناً فاناً سات سو افراد کو گولیاں مار کر یا بلڈوزر چڑھا کر موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔اس خونیں کریک ڈاؤن کے بعد ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مرسی کی برطرف کے بعد ایک سال کے عرصے میں کم سے کم چالیس ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور پھر ان کے خلاف مصری عدالتوں میں غداری اور دوسرے الزامات میں اجتماعی مقدمات چلائے گئے ہیں۔ان میں سے سیکڑوں کو سزائے موت یا لمبی مدت کی قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہے۔

درایں اثناء منصفین (جیورسٹوں) کے عالمی کمیشن (آئی سی جے) نے مصر پر زوردیا ہے کہ وہ ججوں کی جبری ریٹائر منٹ سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرے۔کمیشن کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے لیے ڈائریکٹر سعید بن عربیہ نے کہا ہے کہ ''مصر میں انفرادی ججوں کے خلاف حملے خوف ناک سطح پر پہنچ گئے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں