ایران خلیجی ممالک سے بات چیت کا خواہش مند ہے : بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بحرین کے وزیر خارجہ الشيخ خالد بن احمد آل خليفہ نے ایران کی جانب سے امیر کویت کے ذریعے خلیجی ممالک کی قیادت کو بھیجے گئے ایک پیغام کا انکشاف کیا ہے جس میں ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ مکالمے کے آغاز کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں الشيخ خالد آل خليفہ نے بتایا کہ "کچھ عرصہ قبل ایران کے ایک اعلیٰ اہل کار نے کویت کا دورہ کیا اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کی درخواست کی۔ امیر کویت نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی قیادت کو اس امر سے آگاہ کردیا کہ ایرانی پیغام میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنے خواہش شامل ہے اور ہم اس کو مسترد نہیں کرتے ہیں۔ تاہم ایرانی مرشد اعلیٰ نے مملکت بحرین کے خلاف ایک بیان جاری کیا اور اسی طرح ایرانی تنظیم کے ایک قائد نے اشتعال انگیز بیانوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ ایران کو بحرین واپس کیا جانا چاہیے"۔ وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ "ایران کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھلا ہے اور ہم ان سے مسلسل ملتے بھی رہے ہیں"۔

بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ "ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے اس کے ساتھ باہمی بقاء کو یقینی بنا رہے ہیں۔ تاہم بعض مسائل ہیں جن کا سبب ایرانی خارجہ پالیسی ہے جو خلیجی ممالک کی سیادت کو نقصان پہنچا رہی ہے، ان میں نمایاں ترین اماراتی جزیروں پر قبضہ ہے"۔

بحرینی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "ایران نے دنیا کے حوالے سے تو اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کیا ہے مگر اپنے عرب اور مسلمان پڑوسی ملکوں کے حوالے سے پالیسی نہیں بدلی۔ اس پر لازم ہے کہ وہ خطے کے ممالک کے حوالے سے بھی اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ اور دیگر تنظیمیں جو اس کی پیروی کرتی ہیں ان کی سپورٹ بند کرے اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور اپنے کارندوں کی تربیت کا سلسلہ روک کر تمام اٹھائے گئے اقدامات سے ہمیں آگاہ کرے"۔

ایران کے ساتھ بحرین کے منقطع تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہم ایران اور اس کے پیروکاروں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور ہم اپنی مملکت، عوام، مفادات اور خطے میں اپنے بھائیوں کے دفاع سے ذرا نہیں ہچکچائیں گے"۔

الشيخ خالد آل خليفہ نے بتایا کہ "ہم نے ایران کے بارے میں اس طرح بات نہیں کی جس طرح اس نے پچھلے برسوں برائی کے ساتھ ہمارے بارے میں بات کی۔ ہمارے پاس تعلقات منقطع کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ یقینا حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی فوجی مشق شمال کی گرج ایران سمیت ہر اس جانب کے لیے ایک پیغام ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خطے کو نقصان پہنچا سکتا ہے"۔

تاہم بحرینی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ "اگر حالات بہتر ہوگئے اور صورت حال تبدیل ہوجاتی ہے تو ایران کے ساتھ منقطع تعلقات بدل بھی سکتے ہیں"۔

خلیج کے معاملات اور بحرین کے ساتھ خارجہ تعلقات کے حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما کے بیانات سے متعلق الشیخ خالد کا کہنا تھا کہ "امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ایک صدی سے بھی زیاہ پرانے اور تاریخی نوعیت کے ہیں۔ ہمیں صدر اوباما کے بیانات کی درستی کے حوالے سے خبردار رہنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذمہ دار صدر اوباما کے بعض مواقف کو نہ ٹھہرائیں، یہ ذاتی رائے کا اظہار بھی ہوسکتے ہیں"۔

انہوں صدر اوباما کے بیانات کے حوالے سے بحرین کے موقف کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ "صدر اوباما کے انٹرویو میں ہمیں اپنے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں نظر آئی"۔

دوسری جانب بحرین سے بعض لبنانیوں کی بے دخلی پر تبصرہ کرتے ہوئے خالد آل خليفہ نے کہا کہ "لبنان کے ساتھ ہمارے پرانے، برادرانہ اور سماجی تعلقات ہیں اور وہ بحرینی معاشرے کے لیے نئے لوگ نہیں۔ لبنان خطے میں نمایاں ترین تہذیبی شناخت کا حامل تھا اور آج یہ شناخت (ولايت فقیہہ) کے ساتھ لپٹ جانے کی وجہ سے خطرے کا شکار ہے۔ لبنانیوں میں سے جو لوگ بھی بحرین سے نکلے یا نکالے گئے بلاشبہ ان کا حزب اللہ کے ساتھ تعلق تھا"۔

بحرین میں فوجی اڈوں کے کردار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ "بحرین میں فوجی اڈے درحقیقت حلیف ممالک کو مملکت کی جانب سے فراہم کی گئیں سہولیات میں سے ہیں۔ بحرین میں یہ اڈے پرانے ہیں جن کا اولین مقصد خلیج فارس میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور دہشت گردی کے خلاف برسرجنگ ہونا ہے۔ ان اڈوں کے ذریعے ہم بحرین کے دفاع میں جن کے ساتھ مربوط ہیں وہ خطے میں ہمارے بھائیوں کے علاوہ بین الاقوامی شریک ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں