.

دمشق کے نواح اور حلب میں جھڑپیں ،40 افراد ہلاک

داعش کا شامی فوج کے زیر قبضہ پاور اسٹیشن پر بارود سے بھری کاروں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے جنگجوؤں نے شام کے دارالحکومت دمشق کے نزدیک حکومت کی عمل داری والے ایک علاقے پر حملہ کیا ہے۔ادھر شمالی شہر حلب میں باغیوں نے کرد آبادی والے علاقے پر گولہ باری کی ہے۔ان دونوں واقعات میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

داعش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے دمشق کے شمال مشرق میں پچاس کلومیٹر دور واقع تشرین پاور اسٹیشن پر حملہ کیا ہے۔شامی فوج کے ایک ذریعے نے اس حملے کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

شامی فوج کے ذریعے کا کہنا ہے کہ داعش کا منگل کی رات دمشق کے باہر حملہ ان کی تدمر سے پسپائی کا ردعمل ہوسکتا ہے۔شامی فوج نے اسی ہفتے روسی فضائیہ کی مدد سے داعش کے جنگجوؤں کو وسطی صوبے حمص میں واقع ایک اور قصبے القریتین سے بھی لڑائی کے بعد نکال باہر کیا ہے اور وہاں دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ داعش کے حملہ آوروں نے دمشق میں شمال مشرق میں واقع ایک ہوائی اڈے کے نزدیک فوجی تنصیبات اور چوکیوں کو خودکش دھماکوں سے نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے بارود سے بھری پانچ کاریں دھماکوں سے اڑائی ہیں جن کے نتیجے میں بارہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

شامی فوج نے دمشق کے شمال مشرق میں واقع قصبے دیمیر پر گولہ باری کی ہے اور فضائی حملے کیے ہیں۔اس قصبے پر داعش کے حامی ایک باغی گروپ نے قبضہ کررکھا ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں نو شہری اور داعش کے پندرہ جنگجو مارے گئے ہیں۔داعش کی بارود سے بھری پانچ گاڑیوں کے ڈرائیور جھڑپوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔شامی فوج کے ذریعے کا کہنا ہے کہ دیمیر کے نواحی علاقے میں جھڑپوں میں تیرہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

حلب میں ہلاکتیں

داعش کو شمالی شام میں شکست اور پسپائی کا سامنا ہے۔صوبہ حلب میں ایک محاذ پر داعش کی امریکا کے اتحادی کرد جنگجوؤں سے لڑائی جاری ہے۔حالیہ دنوں میں ان کی ترکی کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کے ساتھ حلب کے شمال میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

شامی باغیوں نے حلب میں کرد آبادی والے علاقے شیخ مقصود پر گولہ باری کی ہے جس سے ایک حاملہ عورت اور تین بچوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک اور تیس بچوں سمیت ستر زخمی ہوگئے ہیں۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ یہ گولہ باری 27 فروری سے جاری جنگ بندی سمجھوتے کی واضح خلاف ورزی ہے۔

شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے اتحادی گروپ احرارالشام نے بدھ کو بھی شیخ مقصود کے علاقے پر گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے۔شامی آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ باغی اس علاقے پر اس لیے بھی قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ وہاں سے سرکاری فوج کے زیر قبضہ علاقوں پر حملے کرسکیں۔

حلب سنہ 2012ء سے دو حصوں میں منقسم ہے،شہر کے ایک حصے پر شامی فوج کا کنٹرول برقرار ہے اوردوسرے حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے منگل کی شب حلب کے جنوب میں ایک بڑا حملہ کیا تھا اور مسلح گروپوں کے ٹھکانوں کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔