مصر سے جزیروں کی واپسی، اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں: سعودی عرب
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے باور کرایا ہے کہ تیران اور صنافیر کے دونوں جزیرے مملکت کے ہیں۔ اسرائیل نے انہیں مصر سے چھین کر قبضے میں لیا تھا اور پھر مصر نے ہی دونوں جزیرے سعودی عرب کو پھر سے واپس کر دیے۔
اتوار کے روز مصر کے چینل "سی بی سی" سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان جزیروں کے حوالے سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کا تعلق نہیں۔ اسی طرح شاہ سلمان پل کو دونوں جزیروں کی واپسی اور مصر کی ان سے دست برداری سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ الجبیر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ مصر نے امن معاہدے کے سلسلے میں جو ذیلی معاہدے کیے ہیں بالخصوص ان جزیروں سے متعلق، سعودی عرب ان کا پابند ہے۔
سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر ریاست دوسری ریاستوں کے ساتھ اپنی سرحدیں کھینچنا چاہتی ہے۔ مصر نے قبرص کے ساتھ سرحدیں کھینچیں، اسی طرح سعودی عرب بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سرحدوں کا تعین چاہتا ہے۔ مصر کے ساتھ سرحد کے کا تعین کے حوالے سے فیصلہ فریقین کی مرضی سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ سعودی عرب کا یہ مطالبہ کئی سالوں سے تھا اور اب اس سلسلے میں اتفاق رائے ہوگیا۔
عادل الجبیر نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے 70ء اور 80ء کی دہائیوں میں عراق کے ساتھ اپنی سرحدوں کا از سر نو تعین کیا۔ اسی طرح 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں قطر کے ساتھ اور 70ء ، 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرحدوں کا دوبارہ تعین کیا۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں سلطنت عمان اور یمن کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ ہوا۔ اب مصر کے ساتھ بھی اپنے وقت پر سرحدوں کا از سر نو تعین کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں شاہ فاروق اور شاہ عبدالعزیز آل سعود کے زمانے سے ہی یادداشتوں کا تبادلہ تھا۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران بھی یادداشتوں اور خط و کتابت کا تبادلہ جاری رہا۔ اب جا کر یہ معاملہ دونوں برادر ممالک کی رضامندی سے حل ہو گیا۔
سعودی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ شاہ سلمان پل ایک تاریخی قدم ہے جو ایشیا کو افریقہ سے اور سعودی عرب کو مصر سے جوڑے گا۔ ایشیا اور افریقہ کے درمیان رابطے کے حوالے سے اس منصوبے کے بہت بڑے پیمانے پر اقتصادی، سماجی اور سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کا مصر کے ساتھ سمندری حدود کے از سر نو تعین سے کوئی تعلق نہیں۔
عادل الجبیر کے مطابق سعودی فرماں روا کا مصر کا دورہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے، جس کے دوران متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عرب دنیا کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے نقطہ ہائے نظر میں مطابقت پائی جاتی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر مطالبہ کیا گیا تو ان کا ملک مصر اور قطر کے درمیان ثالثی کا کراد ادا کرنے کو تیار ہے اور اس میں ہر گز تاخیر نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصر اور قطر کے درمیان رابطہ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اتوار کے روز مصری اخبارات کے چیف ایڈیٹروں کے ساتھ ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سنی شدت پسندوں کے نمودار ہونے میں، ایرانی انقلاب اور 1979ء کے بعد اس کی انتہا پسندی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ " شیعہ انتہا پسندی کے ظہور سے پہلے سعودی عرب سے کبھی کوئی ایک دہشت گرد نہیں نکلا"۔
عادل الجبیر کے مطابق سعودی علماء کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کو یکسر مسترد کرنا، اس کا دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے سامنے نہ آنے میں بڑا کردار رہا ہے۔ مملکت کے علماء داعش تنظیم اور تشدد کے خلاف سب سے زیادہ برسرجنگ ہیں"۔
سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امام محمد بن عبدالوہاب نے کبھی بھی انتہا پسندی اور بے قصور لوگوں کے قتل کی دعوت نہیں دی۔ وہ ایک اصلاح پسند تھے اور چاروں آئمہ کرام کے مسالک میں سے ایک مسلک کے پیروکار تھے۔ عادل الجبیر نے استفسار کیا کہ "تقریبا 250 برس تک وہابیت انتہاپسندی اور تشدد کے بنا کیوں جاری رہی؟"۔ انہوں نے اس کا سبب ایران کو قرار دیا جہاں 1979ء کے انقلاب اور اس کی شدت پسندی نے سنی انتہا پسندی کو جنم دیا۔