مطاف تک رسائی کے لیے مسجد حرام میں 17 سبز دروازے!
حرمین شریفین کے نگراں ادارے نے بتایا ہے کہ حجاج ومعتمرین کی آسانی کی خاطر ان کی مطاف تک براہ راست رسائی یقینی بنانے کے لیے 17 دروازے تیار کیے گئے ہیں۔ مطاف کے ہرداخلی دروازے کی پہچان اس کے بالائی حصے کا سبز رنگ ہے جس سے وہ دورازے دور سے پہچانے جاتے ہیں۔
مسجد حرام کے عمومی امور کے سیکرٹری مشہور المنعمی نے اخبار’’مکہ‘‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد حرام سے مطاف کے صحن تک زائرین کی فوری رسائی کو یقینی بنانے کے لیے 17 سبز دروازے تیار کیے گئے ہیں۔ حج اور ماہ صیام میں ہونے والے عمرہ سیزن کے دوران مزید دروازے بھی تیار کیے جائیں گے تاکہ زائرین کو مطاف تک پہنچنے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ وہ سہولت کے ساتھ جہاں سے چاہیں مطاف میں داخل ہوسکیں۔
مشہور المنعمی کاکہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ دروازوں کا مقصد زائرین کی آمد ورفت کو آسان بنانا اور ان کے مطاف تک پہنچنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔تاکہ عازمین حج وعمرہ وقت ضائع کیے بغیر خانہ کعبہ کا طواف کم سے کم وقت میں مکمل کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مطاف کے سترہ داخلی دروازے توسیع حرم کے جاری پروگرام کا حصہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید داخلی دروازے بھی بنائے جائیں گے۔
المنعمی کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے نگراں ادارے کی جانب سے حجاج و معتمرین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ نمازوں کے اوقات میں مطاف کے داخلی دروازوں کا استعمال نہ کریں کیونکہ نمازوں بالخصوص نما مغرب کے وقت مسجد میں نمازیوں کے غیرمعمولی رش کی وجہ سے داخلی دروازوں پر بھی رش بڑھ جاتا ہے۔
-
حرم مکی : رمضان سے قبل مطاف کی گنجائش فی گھنٹہ 30 ہزار
مسجد حرام (حرم شریف) میں عارضی مطاف کو ہٹانے کا 7 ٪ کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ منصوبے ...
مشرق وسطی -
بیت اللہ کے عارضی مطاف کو ہٹانے کا عمل شروع
فی گھنٹہ ایک لاکھ سات ہزار زائرین کے لیے طواف کعبہ سہولت
مشرق وسطی -
صحن مطاف میں دنیا کا سب بڑا چھاتہ نصب کرنے کی تیاری
چھاتے کی ’بیس‘ مسجد حرام میں پہنچا دی گئی
مشرق وسطی -
عارضی مطاف آئندہ ماہ صیام تک ہٹانے کا فیصلہ
مسجد حرام کی توسیع کے ذمہ دار ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بیت اللہ کے طواف کے ...
ایڈیٹر کی پسند -
توسیع مطاف کا تیسرا مرحلہ قریب الاختتام
مطاف کی توسیع کے بعد 60 لاکھ زائرین عمرہ ادا کرسکیں گے
ایڈیٹر کی پسند -
مسجد حرام کا مطاف توسیعی منصوبہ آخری مراحل میں داخل
35000 مزدور اور کاریگر منصوبے کی جلد از جلد تکمیل میں مصروف ہیں
مشرق وسطی