.

یہودی جوڑے کے قتل میں ملوّث فلسطینی کا مکان مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فورسز نے غربِ اردن میں ایک فلسطینی کا مکان مسمار کردیا ہے۔اس فلسطینی نوجوان پر شُبہ تھا کہ اس نے اکتوبر 2015ء میں مقبوضہ علاقے میں ایک یہودی آبادکار جوڑے کے قتل کے واقعے میں معاونت کی تھی۔

زید عمرو نامی اس نوجوان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ حماس کے ایک اسکواڈ کا حصہ تھا جس نے یہود آبادکار جوڑے نعما اور ایتام ہینکن کو ان کے بچوں کے سامنے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔مہلوک اسرائیلی جوڑا دو یہودی بستیوں کے درمیان اپنی کار پر سفر کررہا تھا اور ان کے بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اس واقعے کے بعد اسرائیلی فورسز نے زید عمرو سمیت حماس سے تعلق رکھنے والے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔اس کے والد زیاد عمرو نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی منگل کی صبح ساڑھے چھے بجے کے لگ بھگ مغربی کنارے کے شمال میں واقع شہر نابلس میں ان کے اپارٹمنٹ پر آئے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے مکان کی اندرونی دیواروں کو ڈھا دیا ہے اور اس کو بند کردیا ہے۔فلسطینی خاندان نے اپنے مکان کی مسماری کے فیصلے کے خلاف اسرائیلی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی مگر اس کو خارج کردیا گیا تھا اور انھیں مسماری سے متعلق پیشگی آگاہ کردیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے اس مکان کو مسمار کیے جانے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ زید عمرو حماس سے وابستہ ایک سیل کا رکن تھا اور اسی نے یکم اکتوبر کو ایتام اور نعما پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنایا تھا۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہودی آبادکاروں اور قابض اسرائیلی فوجیوں پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوّث فلسطینیوں کے مکانوں کو ڈھانے کا عمل تیز کردیا ہے۔ناقدین نے مکانوں کی اس انداز میں مسماری کو فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ عالمی انسانی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔تاہم اس کارروائی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے حملوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

اسرائیلی فوج نے دسمبر میں نابلس میں یہودی آباد کار جوڑے کی ہلاکت کے واقعے کے مبیّنہ ماسٹر مائنڈ رجب علوہ کا مکان دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔واضح رہے کہ حماس نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی اور اسرائیلی حکام اپنے طور پر ہی اس پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کرتے رہے ہیں۔

درایں اثناء اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک اٹھارہ سالہ فلسطینی لڑکے کو گرفتار کر لیا ہے۔اس پر سوموار کے روز ایک ساٹھ سالہ یہودی شخص کو چاقو گھونپنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔یہ مجروح یہودی اس وقت ایک اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت بہتر بتائی جاتی ہے۔