شام میں پاسداران اور ملیشیاؤں کی 80 ہلاکتیں، ایران میں تنازع برپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام کے شہر حلب کے نواحی قصبے خان طومان میں لڑائی کے دوران جمعے کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز اور اس کے زیرانتظام شیعہ ملیشیاؤں کے کم از کم 80 اہل کاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کے اعلان کے بعد ایران میں فوجی، سرکاری اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ مذکورہ تعداد میں ایرانی افسران اور فوجیوں کی تعداد 34 ہے۔

ایران کی بڑی نیوز ایجنسیوں نے ہفتے کے روز پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری بیان نشر کیا، جس میں پاسداران کے اعلی افسران سمیت 13 اہل کاروں کے مارے جانے اور 21 کے شدیدی زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔

"فردا نيوز" کے مطابق ایرانی فورسز اور اس کے حلیفوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی ہے جن میں اکثریت افغان ملیشیا "فاطميون" اور لبنانی حزب اللہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کے علاوہ ایران کے 17افسران اور فوجی مارے گئے جب کہ 21 شدید نوعیت کے زخمی ہوئے۔

ایجنسی کی ویب سائٹ پر پاسداران انقلاب کے ایک اہل کار کی جانب سے لڑائی کے دوران فارسی زبان میں بھیجے گئے ایک پیغام کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے، جس میں اس نے کہا کہ "ہماری تعداد 83 ہے اور ہم مکمل طور پر گھر چکے ہیں۔ ہم گولہ باری کی سپورٹ کے منتظر ہیں"۔ ساتھ ہی مخاطب سے درخواست بھی کی گئی کہ وہ ان کے لیے "قید کے بجائے شہادت" کی دعا کرے۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب کی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کی خبریں گردش میں نہ لائی جائیں اس کے علاوہ مارے جانے والوں کی تعداد کے حوالے سے افواہوں اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت کی وجوہات شائع نہ کی جائیں۔

بیان میں میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے مطالبہ کی گیا ہے کہ وہ حلب میں ایرانی ہلاکتوں کی خبریں نہ پھیلائیں تاکہ "معاشرے میں سکون قائم رہے"۔ بیان کے مطابق شامی اپوزیشن فورسز ان خبروں کو مختلف محاذوں پر نقصان کے حجم کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

ایرانی ایجنسیوں اور ویب سائٹ نے 13 ہلاک شدگان کے نام نشر کیے تھے جب کہ شامی اپوزیشن کی ویب سائٹوں نے قیدی بنائے گئے افغان اور لبنانی حزب اللہ کے اہل کاروں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

یاد رہے کہ جمعے کے روز حملے کے ذریعے شامی جنجگو گروپوں نے متعدد علاقوں اور ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا جن میں "خان طومان، خالديہ، تلہ المقلع، تلہ الزيتون، البرغل فیکٹری اور تلہ الدبابات" شامل ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی مشرق کے مطابق ایرانی فورسز، شامی فورسز اور ملیشیاؤں کی شکست کی وجہ خان طومان اور خالدیہ کے قصبوں میں موجود فوجی قیادت کی غلطیاں ہیں جنہوں نے زمین میں بارودی سرنگیں نصب نہیں کیں، اس کی وجہ سے حملہ آوروں نے تیزی اور آسانی کے ساتھ پیش قدمی کی۔

ذرائع کے مطابق جیش الفتح اور جیش حُر کے گروپوں نے وہ ہی طریقہ استعمال کیا جو انہوں نے گزشتہ ماہ العیس قصبے پر دھاوا بولتے ہوئے اپنایا تھا جہاں جاسوسی طیاروں کے ذریعے کارروائی کی عکس بندی کر لی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں عسکری قیادت کو لڑائی کی منصوبہ بندی میں مدد ملی۔

تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے پر کنٹرول کا کھو دینا ایرانی فورسز اور ان کے حلیفوں کا بہت بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی پاسداران انقلاب کے افسران، اہل کار اور شانہ بشانہ لڑنے والی جنگجو ملیشیاؤں کے ارکان کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں، شام میں بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے ایرانی فوجی مداخلت کے بعد سے سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں