.

شام پر ہمارا ضبط وتحمل محدود ہے: امریکا کا روس کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے روس کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کا شامی تنازعے اور صدر بشارالاسد کی قسمت کے بارے میں صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا ہے۔

جان کیری نے ناروے کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ ''روس کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا صبر غیر محدود نہیں ہے۔بشارالاسد کا احتساب کیا جاتا ہے یا نہیں ،اس حوالے سے ہمارا صبر بہت محدود ہے''۔

انھوں نے اوسلو میں تنازعات کے حل اور مصالحت کے موضوع پر منعقدہ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی شاید کامیاب نہ ہوسکے اور خاص طور پر روس کو بشارالاسد پر جنگ بندی کا احترام کرانے کے لیے مزید دبائے ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچایا جاسکے۔

جان کیری نے انتہا پسند گروپوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے چیلنج کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے۔انھوں نے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے کہ دنیا مغرب اور اسلام کے درمیان تہذیبوں کے تصادم میں الجھی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا :'' نہیں ،یہ تہذیبوں کے درمیان تصادم نہیں ہے بلکہ یہ بربریت اور تہذیب کے درمیان ایک جدوجہد ہے،تہذیب اور بنیادی خام سیاسی استحصال اور قرون وسطیٰ اور جدید دور کے فاشزم کے درمیان ایک آویزش برپا ہے''۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کی ہے۔موخرالذکر نے انھیں گذشتہ سال جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کے تحت ایران کے اثاثے کے غیر منجمد نہ کیے جانے پر ایک مرتبہ پھر اپنی شکایات سے آگاہ کیا ہے۔

اس موقع پر جان کیری نے کہا کہ ایران شامی حکومت پر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرے اور اس پر دباؤ ڈالے کہ وہ اعتدال پسند حزب اختلاف کے گروپوں کے ساتھ جنگ بندی کا احترام کرے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد پہنچانے دے۔انھوں نے کہا کہ جنگ بندی خطرے سے دوچار ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ جنگی کارروائیاں حقیقی طور پر روکی جائیں۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ امریکا کا شام اور اس کے روسی اور ایرانی اتحادیوں کے بارے میں صبر محدود ہوتا جارہا ہے۔