عراقی فورسز فلوجہ کے قلب میں "داعش" کی پسپائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلوجہ شہر میں گھمسان کی لڑائی کے بعد مشترکہ عراقی فورسز شہر کے بیچ واقع حکومتی کمپلیکس کے بہت قریب پہنچ گئی ہیں۔ اس دوران یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ داعش کے بقیہ عناصر شمال میں جزیرہ الخالدیہ کی جانب فرار ہو گئے ہیں۔

فلوجہ آپریشنز کے کمانڈر کے مطابق معرکوں میں ابھی تک مرکزی کردار انسداد دہشت گردی کے ادارے اور معاون فورسز کا ہے۔ ادارہ شدت پسندوں کے خلاف مختلف نوعیت کی لڑائیوں میں برسرجنگ ہے جن کے دوران شہر میں اولمپک گراؤنڈ پر عراقی پرچم بلند کر دیا گیا اور اس کے علاوہ شارع 60 اور صنعتی علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

فوجی اور سیکورٹی ذرائع کے مطابق مشترکہ فورسز تمام محوروں سے آگے بڑھیں۔ بین الاقوامی اتحاد اور فوج کی مدد سے داعش تنظیم کے دفاعی ڈھانچے کی کمر توڑ دی گئی جب کہ شورش زدہ علاقوں سے ہزاروں خاندانوں کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا۔

دوسری جانب مشترکہ آپریشنز کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مشترکہ فورسز فلوجہ کے وسط میں واقع الموظفین پُل کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوگئیں جہاں درجنوں جنگجوؤں کے مارے جانے اور فرار ہونے کے بعد داعش کے بہت کم ارکان باقی رہ گئے ہیں۔

وفاقی پولیس کے کمانڈر رائد جودت کے مطابق داعش کے شدت پسند شہر کے مغرب میں دو علاقوں الحلابسہ اور البوعلوان کی جانب فرار ہوگئے تاہم ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر عراقی فورسز متعین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں