.

سعودی شہریوں کی فلسطینیوں کی طرف سے عمرہ ادائی کی مہم

نصرت اقصیٰ کے حوالے سے سعودی باشندوں کا منفرد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں جہاں عمرہ کی ادائی کا موسم اپنے عروج پر ہے وہیں فلسطینی مسلمانوں کو قبلہ اول میں عبادت کی ادائیگی میں غاصب صہیونیوں کی طرف سے ظالمانہ پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کے باشندوں نے نصرت اقصیٰ کی ایک منفرد مہم شروع کی ہے جس کے تحت سعودی باشندے فلسطینیوں کی طرف سے عمرہ کی ادائیگی کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی شہریوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر’’مجھ سے رابطہ کریں کہ میں آپ کی طرف سے عمرہ ادا کردوں#‘‘ کے عنوان سے جاری مہم کے تحت فلسطینی شہریوں بالخصوص قبلہ اول میں عبادت کے لیے آنے والے فلسطینی مرابطین کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ مقامی سعودی شہری نہ صرف بیت المقدس کے ان فلسطینیوں کی طرف سے عمرہ ادا کر رہے ہیں جو قبلہ اول کےمرابطین ہیں بلکہ شہداء کے لواحقین اور فلسطینی اسیران اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے عمرہ کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔

فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عمرہ ادا کرنے والے سعودی شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر عمرہ کی ادائیگی کے دوران کی اپنی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں۔ ان تصاویر میں مہم میں شامل کارکنوں کے ہاتھوں میں کاغذ کے صفحوں پر ان فلسطینیوں کے نام اور پتے درج ہیں جن کی طرف سے عمرہ ادا کیا گیا۔

بیت اللہ کے پہلو میں کھڑے ایک معتمر نے فلسطینی اسیرہ ’عالیہ شیخ عباسی‘، ایک دوسرے نے شہیدہ ’فدویٰ ابو طیر اور تیرسے معتمر نےشہید فلسطینی بہاء علیان کی طرف سے عمرہ ادا کیا۔

سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کی طرف سے عمرہ کی ادائی کی اس منفرد مہم کو غیرمعمولی پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی شہریوں کی طرف سے فلسطینی بھائیوں کی جانب سے عمرہ کی ادائی اس بات کا مظہر ہے کہ مسلم امہ آج بھی جسد واحد کی مانند ہے۔ سعودی عرب کے عوام مظلوم فلسطینیوں کے دکھ اور آلام کو اسی طرح محسوس کرتے ہیں جیسے جسم کے ایک عضو کو تکلیف پر باقی جسم بے قرار ہوجاتا ہے۔