.

شامی فوج نے جنگ بندی میں تین دن کی توسیع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے ملک بھر میں مزید تین دن کے لیے جنگ بندی میں توسیع کردی ہے۔اس سے پہلے شامی حکومت نے بدھ کو عبدالفطر کے موقع پر 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس کی مدت جمعہ کی نصف شب کو ختم ہوگئی تھی۔

شامی فوج کی ہائی کمان نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ 9 جولائی کو ایک بجے سے 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی گئی ہے اور یہ 12 جولائی تک جاری رہے گی۔

درایں اثناء برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ شامی حکومت اور اس کی اتحادی فورسز نے دمشق کے مشرق میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ ایک قصبے میدعا کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

میدعا باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ کے انتہائی مشرق میں واقع ہے۔اسی قصبے کے راستے مشرقی الغوطہ میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ شہروں اور دیہات میں سامان رسد،اسلحہ اور رقوم پہنچائی جاتی تھیں۔اس علاقے میں باغیوں کے زیر قبضہ یہ آخری قصبہ تھا۔اس سے مشرق میں باغیوں کے کنٹرول میں ایک اور قصبہ الضمیر واقع ہے۔یہ قصبہ علاقے کو حکومت کے عمل داری والی پٹی سے الگ کرتا ہے۔

میدعا پر طاقتور باغی گروپ جیش الاسلام کا کنٹرول تھا اور یہ الضمیر کے فوجی اڈا کے نزدیک اس کا اہم ترین مرکز تھا۔جیش الاسلام کے جنگجو اس فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے اسدی فوج کے خلاف نبردآزما ہیں۔

قبل ازیں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان عیدالفطر کے موقع پر 72 گھنٹے کے لیے ہونے والی جنگ بندی دوسرے روز ہی ٹوٹ گئی تھی اور سرکاری فوج نے شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے ایک اہم سپلائی روٹ پر حملہ کیا ہے اور اس کی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔شامی فوج نے اس جنگ بندی کے باوجود مشرقی الغوطہ اور شمالی شہر حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں اور اب اس کی آڑ میں میدعا پر قبضہ کرلیا ہے۔