.

شام:امریکی اتحادیوں کے فضائی حملے، داعش کے 8 جنگجو ہلاک

حلب میں جنگ بندی کے باوجود شامی فوج اور باغیوں میں لڑائی جاری،29 جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں اور ترکی کی جانب سے توپ خانے سے گولہ باری سے داعش کے آٹھ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔شام کے شمالی شہر حلب میں جنگ بندی کے باوجود اسدی فوج اور باغی گروپوں میں لڑائی جاری ہے اور اس میں29 باغی مارے گئے ہیں۔

ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی کے مطابق فضائی حملوں میں داعش کے دس اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے زیر استعمال ایک عمارت کو تباہ کردیا گیا ہے۔ترکی نے شام کے سرحدی علاقوں برغیطہ ،تل احمر اور شبانیہ میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔وہ ان علاقوں سے ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب حملوں کی تیاری کررہے تھے۔

ترکی اور امریکی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے حالیہ مہینوں کے دوران اسی علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملوں کیے ہیں اور یہ حملے ترکی کے سرحدی شہر کیلیس پر داعش کی راکٹ باری کے جواب میں کی گئی ہے۔کیلیس پر داعش کے زیر قبضہ علاقے سے اس سال میں اب تک ستر سے زیادہ مرتبہ راکٹ برسائے جاچکے ہیں۔ان حملوں میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حلب میں ہلاکتیں

درایں اثناء شمالی شہر حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کے باوجود لڑائی جاری ہے اور اس میں انتیس باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ فیلق الشام اور القاعدہ سے وابستہ النصرہ محاذ کے جنگجوؤں نے ہفتے کی رات حلب کے نواح میں کاستیلو روڈ کو دوبارہ کھلوانے کے لیے قابض شامی فوج پر حملہ کیا تھا لیکن شامی فوج نے شدید لڑائی کے بعد ان کا یہ حملہ ناکام بنا دیا ہے اور اس میں ان دونوں گروپوں کے انتیس جنگجو کھیت رہے ہیں۔

شامی فوج نے گذشتہ جمعرات کو اس شاہراہ کو منقطع کردیا تھا اور اس سے فائرنگ رینج پر واقع ایک پہاڑی پر قبضہ کر لیا تھا۔واضح رہے کہ یہ شاہراہ حلب شہر کے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقوں میں سامان رسد پہنچانے کے لیے سنہ 2012ء سے ایک اہم سپلائی روٹ کے طور پر استعمال ہورہی ہے۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ باغیوں کے حملے کے بعد شاہراہ مکمل طور پر بند ہوگئی ہے۔لڑائی میں شامی فوج کا بھی جانی نقصان ہوا ہے لیکن فوری طور پر مہلوک فوجیوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔شامی فوج نے عید الفطر کے موقع پر تین روز کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور ہفتے کے روز اس میں مزید تین دن کی توسیع کی ہے لیکن اس کے باوجود حلب کے اس علاقے میں باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔