.

"نیس" میں داعش کے حملے سے ایران کا تعلق ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں حال ہی میں ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس کے انعقاد کے سبب ایران نے ذرائع ابلاغ میں اور سیاسی طور پر فرانس کو شدید تنقید اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا۔ اس امر کے سبب مبصرین ایرانی دھمکیوں کو فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے آخری حملے سے نتھی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ حملے میں داعش تنظیم کے ایک رکن نے ٹرک سے کچل کر 84 افراد کو موت کی نیند سلا دیا جب کہ 100 سے زیادہ زخمی بھی ہوئے۔ حملہ آور فرانسیسی پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔

تہران صوبے کے سیکورٹی معاون نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی حکام نے جمعرات کو نیس حملے سے چند گھنٹے پہلے فرانسیسی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مجمعے کو منتشر کردیا تھا۔ تقریبا 50 سے 60 مظاہرین کا یہ گروہ ایرانی اپوزیشن کے جمع ہونے پر پیرس کی جانب سے خیرمقدم کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا تھا۔

ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس کے انعقاد کے بعد مُلّائی نظام کی جانب سے فرانس پر شدید تنقید اور نکتہ چینی ، ایرانی ذمہ داران کے بیانات سے صاف طور واضح ہونا شروع ہوگئی۔ ایرانی حکومت کے ترجمان "محمد باقر نوبخت" نے کانفرنس کے انعقاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایک دہشت گرد جماعت جو ایران میں نفرت انگیز بھی ہے ، اس کی میزبانی کرنا اور ایک متعفن اور سڑی ہوئی لاش میں ہوا پھونکنا درحقیقت کمزوری اور قاصر ہونے کا اشارہ ہے"۔

مبصرین کے مطابق اس کانفرنس کا انعقاد ، ایرانی نظام کے لیے ایک غیرمسبوق عالمی سیاسی ضرب ہے۔ قومی کونسل برائے ایرانی مزاحمت کی سربراہ مریم رجوی نے ایران کی دہشت گردی کے بارے میں کھل کر بیان کرتے ہوئے کہا کہ " ملائی نظام اور داعش ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ دونوں ہی دین حنیف یعنی اسلام کے پیغام کے خلاف ہیں۔ بربریت اور وحشیانہ پن میں دونوں کے انداز مماثلت رکھتے ہیں۔ لہذا اس وجہ سے شام ، عراق اور یمن میں جب تک ایرانی نظام کا قبضہ ختم نہیں ہوتا ، اس وقت تک داعش کے خلاف برسرجنگ ہونے کا راستہ مسدود رہے گا"۔

دوسری جانب تہران اور ایران کے دیگر شہروں میں گزشتہ روز جمعے کے خطیبوں نے پیرس میں مجاہدین خلق تنظیم کی کانفرنس منعقد ہونے پر ، فرانس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

داعش تنظیم کی جانب سے نیس شہر میں حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد ، سوشل میڈیا پر ایرانی اور عرب کارکنان نے ایران پر نیس کے حملے کے پیچھے ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹوئیٹر پر مختلف حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تہران ہی اس حملے میں ملوث ہے اور اس کی وجہ پیرس میں 9 اور 10 جولائی کو ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس کی میزبانی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے فرانسیسی سفیر کو طلب کر کے اپنا احتجاجی پیغام ان کے حوالے کیا۔ تہران میں حکومتی ذمہ داران نے اپنے بیانات میں فرانس کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس پر ایران دشمن اجتماعات کی سپورٹ کا الزام عائد کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فرانس کی جانب سے ایرانی اپوزیشن کی حالیہ کانفرنس کی میزبانی ، ایران کو اپنی حد سے باہر لے آئی ہے۔ کانفرنس میں ایران کی پالیسی اور ملائی نظام کی مخالف بڑی عرب اور عالمی شخصیات نے شرکت کی جب کہ میڈیا کی جناب سے بھی غیرمسبوق کوریج دی گئی۔

ایران اور حزب اللہ کے امور پر مطلع حلقے جن میں حزب اللہ سے منحرف ارکان بھی شامل ہیں، انہوں نے بھی انکشاف کیا ہے کہ فرانس کے شہر نیس میں ہونے والی کارروائی کے پیچھے ایران اور حزب اللہ کے لیے کام کرنے والے ایک دہشت گروپ کا ہاتھ ہے۔ یہ کارروائی ایرانی مزاحمت کی قومی کانفرنس کے انعقاد کے جواب میں کی گئی ہے۔

مذکورہ حلقوں کا کہنا ہے کہ "یورپ میں ہونے والی ہر دہشت گرد کارروائی کے بعد ، حزب اللہ کا ماحول بڑا پرمسرت نظر آتا ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ دہشت گردی بشار الاسد کے بقاء اور خطے میں ایرانی پھیلاؤ کے کام آرہی ہے"۔