امریکا کا حمایت یافتہ شامی گروپ داعش کا مقلد،12 سالہ فلسطینی بچے کا سرقلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا کے حمایت یافتہ شام کے ایک باغی گروپ نے بدھ کے روز اپنے ایک جنگجو کے ہاتھوں ایک بارہ سالہ لڑکے کا جاسوسی کے الزام میں سرقلم کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک ''انفرادی غلطی'' ہے اور اس کا گروپ کی مجموعی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اعتدال پسند نورالدین زنگی گروپ نے بچے کا سرقلم کیے جانے کی مذمت کی ہے۔اس کو ذبح کرنے والے جنگجوؤں نے اس کی ویڈیو بنائی تھی اور اس کو انٹرنیٹ پر جاری کیا ہے جس پر اس باغی گروپ کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ کم سن لڑکا کون تھا اور اس کا کیمرے کے سامنے سر کیوں قلم کیا گیا ہے۔البتہ سوشل میڈیا پر بعض شامی کارکنان نے محمود عیسیٰ کے نام سے اس بچے کی شناخت کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ بارہ سالہ لڑکا فلسطینی ہے۔شامی حکومت نے بھی اقوام متحدہ کے نام ایک بیان میں اس کے اندوہناک قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ حلب کے نزدیک واقع فلسطینی مہاجرین کے ایک کیمپ کا مکین تھا۔

اس کو حلب کے نزدیک واقع علاقے ہندرات میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ویڈیو میں ایک پک اپ ٹرک کے پیچھے ایک کم سن لڑکا نظر آرہا ہے۔اس کے گرد مسلح افراد ہیں۔وہ اس پر جاسوس اور شامی حکومت نواز فلسطینی ملیشیا القدس بریگیڈ کا ایک رکن ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔پھر اس کو ان جنگجوؤں میں سے ایک تیز دھار چاقو سے ذبح کردیتا ہے۔

نورالدین زنگی گروپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گا اور اس کے ذمے داروں کو جلد سزا دے گا۔اس نے اطلاع دی ہے کہ اس واقعے میں ملوّث تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اوران کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہے۔یہ گروپ صوبہ حلب میں داعش اور صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف لڑرہا ہے اور اس کو ماضی میں امریکا کی جانب سے مدد ملتی رہی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ویڈیو حزب اختلاف کے گروپوں کی سفاکیت کا ایک اور ثبوت ہے اور وہ کسی سزا کے خوف سے ماورا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔

ایمنسٹی کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے لیے ڈائریکٹر فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ ''لڑکے کا سرقلم کرنے کی یہ خوف ناک ویڈیو ظاہر کرتی ہے کہ مسلح گروپوں کے بعض ارکان سفاکیت کو عملاً بروئے کار لارہے ہیں۔یہ پکڑے گئے افراد کو سرسری سماعت کے بعد تہ تیغ کرنے کی بھی ایک خوف ناک مثال ہے اور یہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے''۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انھوں نے یہ ''خوف ناک رپورٹ'' دیکھی ہے لیکن وہ فی الوقت اس کے رونما ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔اگر یہ درست ہے تو یقیناً ہمیں اس پر گہری تشویش لاحق ہے اور اگر یہ رپورٹ درست ثابت ہوجاتی ہے تو پھر ہم اس گروپ کی مزید کوئی مدد نہیں کریں گے''۔

دریں اثناء شام کے ایک جنوبی قصبے میں ایک عمارت میں دھماکا ہوا ہے۔اس میں کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔دھماکے کی وجہ کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ایک جنگی طیارے نے جنوبی قصبے بعث میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔یہ قصبہ اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں کے نزدیک واقع ہے۔تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس کو اسرائیلی طیارے کے بارے میں کیسے پتا چلا ہے کہ یہ حملہ اسی نے کیا ہے۔

واضح رہے کہ شام کے جنوبی علاقوں میں اسرائیل کے لڑاکا طیارے ماضی میں فضائی حملے کرتے رہے ہیں اور اسرائیلی توپ خانہ بھی اس سرحدی علاقے میں گولہ باری کرتا رہا ہے۔اس علاقے میں ایران کی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو موجود ہیں اور ماضی میں اسرائیلی حملوں میں ان کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

حزب اللہ کے ملٹری میڈیا نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسرائیل نے علاقے میں فضائی حملہ کیا ہے۔اس کے بجائے اس نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے دو راکٹ فائر کیے تھے اور ان کے پھٹنے سے دھماکا ہوا تھا۔بعد میں حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوجیوں نے اس کے ردعمل میں النصرۃ محاذ کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے راکٹ چلائے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں