شام : باغیوں کا حلب کے نزدیک اہم فوجی تنصیبات پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی باغیوں کے ایک اتحاد نے شمالی صوبے حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے ایک بڑا حملہ کیا ہے اور حلب کے جنوب میں واقع اہم فوجی تنصیبات اور اسلحہ ڈپو پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائےانسانی حقوق نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ''جیش الفتح نے حلب کے جنوب میں ایک ملٹری اکیڈیمی میں واقع ایک اسلحہ اسکول اور ایک آرٹلری اسکول کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔اس اسلحہ اسکول میں بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی تھا۔

حلب میں اس وقت بھی ڈھائی لاکھ کے قریب لوگ رہ رہے ہیں۔شامی فوج اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں نے گذشتہ ماہ سے اس شہر کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔انھوں نے گذشتہ ماہ باغیوں کے زیر قبضہ شہر کے مشرقی حصے کو ملک کے دوسرے علاقوں سے ملانے والی شاہراہ بھی قبضہ کر لیا تھا اور اس طرح انھوں نے شہر میں امدادی سامان پہنچانے کے اس واحد راستے کو بھی مسدود کر دیا تھا۔

جیش الفتح سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر کے جنوب مغرب میں راموسہ میں قلعہ نما عمارت میں واقع آرٹلری اکیڈیمی پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ جیش الفتح میں القاعدہ سے وابستہ سابق النصرۃ محاذ ،احرار الشام اور دوسرے چھوٹے گروپ شامل ہیں۔

اس اتحاد کے جنگجو اب آرٹلری کے اس اڈے پر واقع دوسری ملٹری اکیڈیمیوں پر قبضے کے لیے شامی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔آرٹلری کا یہ اڈا حزب اختلاف کے محاصرہ زدہ علاقے سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔شامی فوج اسی اڈے سے حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آرٹلری بیس اور دو بڑی ملٹری اکیڈیمیوں پر حملے پسپا کر دیے ہیں۔ سیکڑوں باغی حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور ان کی فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

باغیوں کے حملے کی زد میں آنے والی ایک ملٹری اکیڈیمی کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل دیب بازی نے کہا ہے کہ ''آج دہشت گرد گروپوں نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا اور انھوں نے ہرقسم کے ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ہم ان کے خلاف لڑرہے ہیں اور انھیں شکست سے دوچار کریں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں