عراق: سعودی سفیر کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ایرانی ایجنٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

عراق میں پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی سفیر ثامر السبہان کو ہلاک کرنے کے منصوبے کے انکشاف نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ ملیشیائیں کس گہری حد تک تہران کی پیروکار ہیں۔ بالخصوص خراسان بریگیڈز کے زیر انتظام ایک گروپ کے رکن کے اعتراف کے بعد جس نے اقرار کیا کہ ہلاکت کا منصوبہ ایرانی انٹیلجنس کے ایک افسر نے تیار کیا۔

اس سے قبل بغداد میں سعودی سفارت خانے کو ایران سے رابطہ رکھنے والی شیعہ ملیشیاؤں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں۔ سعودی سفیر السبہان کی جانب سے بھی عراقی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا رہا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے یا کم از کم سعودی عرب کو ہی اجازت دے دی جائے کہ وہ ساز و سامان اور مطلوبہ گاڑیوں کے ذریعے سفارت خانے کے تحفظ کو یقینی بنا لے۔

ایک عراقی سکیورٹی ذمہ دار کے مطابق سعودی سفیر السبہان کو ہلاک کرنے کی ایک کوشش کی منصوبہ بندی "خراسان" بریگیڈز کی ملیشیاؤں کی جانب سے کی گئی۔ عراقی انٹیلجنس نے مذکورہ ملیشیاؤں کے ارکان اور بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والے افراد جو خراسان بریگیڈز سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے درمیان فون کالوں کا پتہ چلایا جس میں السبہان کی بغداد آمد و رفت اور سفر کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

کارروائی پر عمل درامد کا ذمہ دار خراسان بریگیڈز کا گروپ 8 افراد پر مشتمل تھا۔ دو گاڑیوں میں سوار یہ افراد عراقی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں سے بچ کر فرار ہو گئے تاہم ان میں سے ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار شخص نے اعتراف کیا کہ قتل کا منصوبہ ایرانی انٹیلجنس کے ایک افسر نے تیار کیا تاہم بغداد کے ہوائی اڈے سے موصولہ غیر واضح معلومات اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کے سبب اس پر عمل درامد نہ ہوسکا۔

یاد رہے کہ "خراسان" گروپ کے علاوہ بھی دوسرے گروہ ہیں جو سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کی دیگر کوششوں میں ملوث رہے ہیں۔

یاد رہے کہ "الصدر الاول" بریگیڈز کی قیادت کرنے والا مرتضی اللامی شام میں بشار الاسد کی فوج کی معاونت کے لیے جون 2015 میں 40 جنگجوؤں کو بھیج چکا ہے۔ تاہم اللامی نے محض 25 روز بعد ہی دمشق کے نواح میں اپنے 4 جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد بقیہ تمام جنجگوؤں کو واپس عراق بلا لیا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے حکم پر شام میں لڑنے والی تحریک "حزب الله النجباء" کے بانی اکرم الکعبی کا نام سعودی سفیر کے خلاف قتل کے ایک دوسرے منصوبے پر عمل درامد کے لیے، اللامی گروپ کو اکسانے والی شخصیت کے طور پر آتا ہے۔

یاد رہے کہ الکعبی عراقی رہ نما مقتدی الصدر کی "جیش مہدی" تنظیم کی پیروکار ملیشیاؤں "عصائب اهل الحق" کا جہادی ذمہ دار تھا۔ تاہم پھر اس نے قیس الخزعلی اور عبدالہادی الدراجی کے ساتھ علاحدہ ہو کر ایران کی مطلق پیروکاری کا اعلان کر دیا تھا۔

ادھر "ابو الفضل العباس" ملیشیاؤں کی فورس کے سکریٹری جنرل اوس الخفاجی نے عراق میں سعودی سفیر کے قتل کے منصوبے کے انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے پیر کے روز کہا تھا کہ "عراق میں السبہان کے گنتی کے چند دن رہ گئے ہیں"۔ اس نے یہ بھی کہا کہ " السبہان اور اس کا سفارت خانہ عراق میں ناپسندیدہ ہیں"۔

یاد رہے کہ الخفاجی کی قائم کردہ " ابو الفضل العباس" ملیشائیں عراقی "پاپولر موبیلائزیشن" ملیشیاؤں کا ایک نمایاں حصہ ہیں جن پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے عراق میں سنی اکثریت علاقوں میں مظالم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ ملیشیائیں 2012 سے فرقہ وارانہ عوامل کے سبب شامی عوام کے قتل میں بھی شریک ہیں۔

"پاپولر موبیلائزیشن" ملیشیاؤں کے نائب سربراہ انجینئر ابو مہدی کا نام سکیورٹی رپورٹوں میں عراق میں سعودی سفیر کو ہلاک کرنے پر اکسانے والے بنیادی کردار کے طور پر آیا ہے۔

واشنگٹن نے بھی عراق میں ایرانی رسوخ کی توسیع کے حوالے سے انجینئر ابو مہدی کے کردار پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ابو مہدی ایرانی پاسداران انقلاب کے ذیلی گروپ فیلق القدس کے کمانڈر "قاسم سلیمانی" کا آدمی شمار کیا جاتا ہے۔

امریکی ذمہ داران کے پاس ابومہدی کے حوالے سے یہ معلومات ہیں کہ وہ کویت میں سزائے موت کے فیصلے سے بھاگا ہوا ملزم ہے۔ یہ سزا اس کو 1980ء کی دہائی میں امریکی اور فرانسیسی سفارت خانوں میں دھماکوں میں ملوث ہونے کے سبب سنائی گئی تھی۔ امریکی وزارت خزانہ نے بھی اس کو دہشت گردوں کی فہرست میں رکھا ہوا ہے۔

ابو مہدی اور قاسم سلیمانی کی ایک تصویر بھی زیر گردش رہی جس میں وہ دونوں ساتھ بیٹھے ہوئے عراق میں میدانی نقشوں کا جائزہ لیتے نظر آ رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ 1954 میں بصرہ میں پیدا ہونے والا انجینئر ابو مہدی کا نام عراقی ریکارڈ میں "جمال جعفر محمد علی الابراہیمی" ہے۔ وہ ایک ایرانی نژاد گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ایرانی شہریت بھی رکھتا ہے اور اس نے ایرانی خاتون سے ہی شادی کر رکھی ہے۔

وہ اکتوبر 1983 میں کویت میں فرانسیسی اور امریکی سفارت خانوں اور دیگر عمارتوں میں دیسی ساختہ بموں کے ذریعے دھماکوں میں بھی ملوث رہا۔ ان کارروائیوں میں 80 مغربی باشندے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

کویتی امریکی تحقیقات اور انٹرپول کی تفتیشی رپورٹ میں انجینئر ابو مہدی کا نام کارروائی کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد کرنے والے ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔

وہ 25 مئی 1985 کو سابق امیر کویت جابر احمد الجابر کو ہلاک کرنے کی کارروائی کی منصوبہ بندی میں حزب الدعوہ کے 17 ارکان کے ساتھ بھی شریک رہا۔ اس کارروائی میں امیر کویت کی حفاظت پر مامور افراد میں سے 8 ہلاک ہو گئے تھے۔

1985 میں اس کو ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کی جانب سے عراق میں "بدر" فورسز کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ یہ فورسز 1980 سے 1988 تک ایران عراق جنگ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے شانہ بشانہ لڑتی رہیں۔

2007 میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی مدد سے انجینئر ابومہدی ایران فرار ہو گیا۔ وہ اپنے تمام جرائم کی وجہ سے انٹرپول کو بھی مطلوب افراد کی فہرست میں آ گیا۔

اس نے عراق میں ایرانی رسوخ کے منصوبے کے مفاد میں مؤثر تربیت یافتہ عناصر کی تیاری میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ اسی طرح عراق میں "حزب اللہ بریگیڈز" نامی ملیشیا کی تاسیس کا سہرا بھی ابو مہدی کے سر ہے۔ یہ ملیشیا ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرکمان عراق اور شام میں لڑنے والی جماعتوں میں سے ہے۔

اس نے عراق میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے 2011ء تک مختلف گروپ تیار کیے اور ان کو پاسداران انقلاب کے نگرانی میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد استعمال کرنے کی تربیت دلوائی۔

ابومہدی نے بہت سے ایسے اداروں کی تاسیس میں بھی حصہ لیا جو بظاہر ثقافتی حیثیت کے حامل تھے تاہم درحقیقت وہ عراق میں جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے ایرانی ادارے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں