.

"منبج" نہ چھوڑا تو سخت مقابلہ ہوگا: جیشِ حُر کی کردوں کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جیشِ حُر کی اسٹاف کمیٹی کے سربراہ احمد بری نے کُرد فورسز کو دھمکی کی ہے کہ اگر وہ منبج شہر سے نہ نکلیں تو انہیں گھمسان کی لڑائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ترک میڈیا کے مطابق ترکی کی فوج نے جمعرات کے روز شام کے شہر جرابلس کے جنوب میں کرد گروپوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔ سی این این تُرک چینل کے مطابق یہ بم باری منبج شہر کے قریب ہوئی۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں امریکا سے اتحاد قائم کرنے والی کرد ملیشیاؤں کا کنٹرول ہے۔ جرابلس کا قصبہ منبج سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور سینئر حکومتی ذمہ داران یہ واضح کر چکے ہیں کہ "فرات کی ڈھال" آپریشن کا مقصد کرد پروٹیکشن فورسز کو ان علاقوں پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے جہاں داعش تنظیم کے انخلاء کے بعد انتظامی خلا پیدا ہوگیا ہے۔

حکومت نواز نیوز ایجنسی اناضول نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترک فوج کرد پروٹیکشن فورسز کا انخلاء شروع ہونے تک اس کے یونٹوں کے خلاف مداخلت جاری رکھے گی۔ کرد ملیشیائیں بدھ کے روز سے اب تک علاقے کے 7 دیہات پر قبضہ کر چکی ہیں۔

ادھر روزنامہ "حُریت" کے مطابق ترک فوج کے ایک ڈرون طیارے نے شام کے شہر منبج سے کے شمال میں 10 کلومیٹر کی دوری پر کرد ملیشیاؤں کے عناصر کا پتہ چلایا ہے۔

ترکی نے جمعرات کے روز اپنے مزید 10 ٹینکوں کو شام بھیجا۔ اس کے ساتھ ترکی نے بڑے سخت لہجے میں کرد فورسز کو انتباہ جاری کیا کہ شام کے سرحدی قصبے جرابلس پر انقرہ کے حمایت یافتہ شامی جنجگو گروپوں کے کنٹرول کے بعد کرد فورسز اپنے ٹھکانے چھوڑ دیں۔