.

یمن:72 گھنٹوں کی فائر بندی کی تجویز پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چار ملکوں سعودی عرب، امریکا، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزراء خارجہ نے یمنی بحران کے خاتمے کی خاطر فوری طور پر 72 گھنٹے کی جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نیویارک میں ہونے والے وزارتی اجلاس میں یو این کے خصوصی ایلچی برائے یمن بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے خاتمے پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے اس جنگ بندی کا یہ فائدہ ہو گا کہ یو این نمائندہ خصوصی یمنی فریقوں کے ساتھ مذاکرات کر سکیں گے۔ نیز امن کمیٹی کے توسط سے جنگ بندی کے عمل کو کوارڈنیٹ کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکے گا۔

وزراء خارجہ نے سعودی عرب کی سرحد پر رونما ہونے والے یمنی دراندازی کے واقعات اور بیلسٹک میزائل حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا۔

اقتصادی بحران اور انسانی مسائل بڑھنے سے روکنے کی خاطر اجلاس کے شرکاء نے امن کے عمل کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ تعز شہر سمیت دیگر متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

شرکاء اجلاس نے یو این خصوصی ایلچی کے تجویز کردہ نقشہ راہ کی تائید کی تاکہ معاملے کے جامع حل کی جانب بڑھا جا سکے۔ خصوصی ایلچی کا امن مںصوبہ خلیجی کوششوں سمیت یو این کی قرارداد 2216 سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ نیز اس میں قومی کانفرنس کے فیصلوں کی توثیق کا پہلو بھی نمایاں ہے۔

ادھر یمنی حکومت نے متحارب باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن سیاسی انتقال اقتدار کی کوششوں میں ہاتھ بٹائیں۔ اجلاس نے باغیوں کی جانب سے یمن میں سیاسی کونسل کے قیام اور پرامن معاہدے کی راہ تک پہنچنے والی تمام رکاوٹوں کے خاتمے کو بھی مسترد کیا ہے۔