بغداد میں داعش کا خودکش بم دھماکا ، سات افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک بمبار نے ایک تجارتی شاہراہ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کےنتیجے میں سات افراد ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔داعش سے وابستہ اعماق نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ بغداد کے مغربی علاقے میں اس بم حملے میں ایران کی حمایت یافتہ بدر تنظیم کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

داعش نے اس سال امریکا کی حمایت یافتہ عراقی فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں سے لڑائی میں شکست اور اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقے کھوجانے کے بعد بغداد حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں حملے تیز کردیے ہیں۔

ہفتے کے روز بغداد سے شمال میں واقع صوبے صلاح الدین میں جنگجوؤں نے پولیس کے چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تھا اور صوبائی دارالحکومت تکریت کے داخلی دروازے پر خودکش ٹرک بم دھماکا کیا جس پندرہ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہوگئے تھے۔داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے جنگجوؤں اور عراقی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔

داعش نے بغداد کے کاروباری علاقے کرادہ میں جولائی میں ایک تباہ کن ٹرک بم دھماکے کی بھی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں تین سو چوبیس عراقی ہلاک ہوگئے تھے۔عراق پر 2003ء میں امریکا کی قیادت میں فوجوں کی چڑھائی کے بعد یہ سب سے تباہ کن بم دھماکا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں