.

بشار کے مشیر کی بیٹی کی شادی.. یا افسانوی تقریب !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ بشار الاسد کی حکومت کے پاس فوج کے ہلاک اور زخمی اہل کاروں کے اعزاز و وتکریم کے لیے بسکٹوں ، دیوار کی گھڑیوں اور بکروں کے سوا کچھ نہیں ہے.. دمشق میں کئی روز سے بشار الاسد کے سکیورٹی مشیر کی بیٹی "بشرى" کی شادی کے چرچے ہیں۔ بشار کے سکیورٹی مشیر بسام مرہج حسن کی بیٹی کی شادی شامی حکومت کے نزدیک سمجھی جانے والی ایک کاروباری شخصیت نعيم الجراح کے بیٹے "خالد" سے ہوئی۔ شادی کی اس تقریب کو افسانوی نوعیت کا قرار دیا گیا۔

اس سلسلے میں کوریج کی ذمے دار اشتہاری کمپنی نے 13 اکتوبر کو ایک وڈیو جاری کی جس میں شادی کی تقریب سے پہلے اس کی تیاری کو دکھایا گیا ہے۔ وڈیو میں تیاری کے حوالے سے بھاری اخراجات اور منتخب مقام کے پیش نظر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کہ یہ ایونٹ شام کے بجائے کسی دوسرے ملک کا ہے۔ اگست 2008ء میں بشار الاسد کے سکیورٹی مشیر مقرر ہونے والے بسام مرہج حسن کی بیٹی کی شادی کے ابتدائی مناظر سے ایسا لگتا ہے گویا کہ یہ کوئی شاہی تاج پوشی کی تقریب ہے۔

رواں ماہ کی 9 تاریخ کو ہونے والی تقریب کے حوالے سے جاری خصوصی وڈیو میں دونوں دولہا دلہن کو ساتھ دکھایا گیا ہے۔

دبئی کے نواح میں مشہور سیاحتی مقام "Uptown" خالد کے والد نعمیم الجراح کی ملکیت ہے۔ اس تقریب کا احوال منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ شامیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے انسانیت کے مجرم بشار الاسد اور اس کے سرکاری حواریوں کی حکومتی خزانے سے کی جانے والی عیاشیاں ہیں۔

شامی اپوزیشن کارکن بسام يوسف نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ میں بتایا ہے کہ بشار الاسد کی جانب سے دولہا اور دلہن کو پیش کیا جانے والا تحفہ 1.5 لاکھ ڈالر قیمت کی مرسڈیز گاڑی کے برابر ہے۔ پوسٹ کے مطابق بشار کے نمک خوار مفتی احمد بدر الدین حسون نے بشری اور خالد کا نکاح پڑھایا۔

بسام یوسف نے اپنی پوسٹ میں بشار الاسد کے حامیوں سے سوال کیا ہے کہ " تم لوگوں کی اولاد کے لیے بسکٹ اور دیوار کی گھڑیاں جب کہ ملک کو تباہ کرنے میں شریک معاون کی بیٹی کی شادی پر صرف 1.5 ڈالر کا تحفہ.. کیا اب بھی تم لوگ کا یقین ہے کہ تمہاری اولاد وطن کے دفاع میں ماری جا رہی ہے؟"

مذکورہ شادی کی تقریب پر خرچ ہونے والی اصل رقم کا جاننا تو مشکل ہے تاہم اقتصادی ذرائع کے نزدیک اس سطح کی عالی شان تقریب کے اخراجات لاکھوں ڈالر سے کم نہیں ہوں گے جو کہ شامی کرنسی میں اربوں لیرہ کے برابر ہیں۔