روس نے شام کے اسکولوں پر 100 سے زیادہ بم برسائے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں بالخصوص حلب شہر میں ابتر انسانی صورت حال سے نمٹنے کے واسطے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے روس پر بین الاقوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

سلامتی کونسل نے شام میں امن و امان اور انسانی صورت حال کو زیر بحث لانے کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کے دوران رکن ممالک کی اکثریت نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ حلب میں محصور شہریوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے۔

سلامتی کونسل میں امریکا کی خاتون مندوب کے مطابق روسی افواج نے اسکولوں پر سو سے زیادہ بم برسائے۔ امریکی مندوب نے ماسکو پر الزام عائد کیا کہ اس نے حلب کے شہریوں کو دو اختیارات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے.. یا تو نسل کشی اور یا پھر حلب سے نقل مکانی.

ادھر اقوام متحدہ میں انسانی امور کے سربراہ اسٹیفن اوبرائن کا کہنا ہے کہ شام میں خون ریزی کا بازار گرم ہے اور اس کے شہری موت کی نیند سوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کے انخلاء سامنے گزرگاہوں کی بندش پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر نے کہا ہے کہ روس نے کسی موقع پر بھی بم باری نہیں روکی اور ساتھ ہی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق بھی استعمال کیا۔ برطانوی سفیر نے شام کے شہروں پر روسی اور بشار فوج کی بم باری روکے جانے کے لیے کسی بھی قرارداد کے واسطے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

فرانس کا موقف بھی برطانیہ سے مختلف نہ تھا۔ فرانسیسی سفیر نے حلب میں طبی ٹیموں کو دانستہ طور نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صورت حال کو انسانی المیہ قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں