.

حزب اللہ کے اتحادی میشال عون لبنان کے صدر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی پارلیمان نے سابق آرمی کمانڈر میشال عون کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔پارلیمان نے گذشتہ انتیس ماہ کے بعد ملک کے نئے صدر کا انتخاب کیا ہے۔

پارلیمان میں سوموار کو صدر کے انتخاب کے لیے پہلے مرحلے میں رائے شماری کے دوران 128 میں سے 84 ارکان نے میشال عون کے حق میں ووٹ دیا۔انھیں صدر منتخب ہونے کے لیے 86 ووٹ درکار تھے۔اس طرح ان کے حق میں دو ووٹ کم پڑے تھے۔

انھیں دوسرے مرحلے میں جیت کے لیے سادہ اکثریت یعنی 65 ووٹ درکار تھے لیکن وہ اتنی تعداد میں ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔اس کے بعد مزید دو مرحلے کے لیے راِئے شماری کو بے ضابطگیوں کی وجہ سے مسترد کردیا گیا۔

بالآخر میشال عون پارلیمان میں چوتھے مرحلے میں 83 ووٹ لے کر لبنان کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔اس مرحلے میں 36 ارکان نے اپنے بیلٹ پیپرز کو خالی رکھا تھا اور سات نے بیلٹ پیپرز کو خراب کردیا تھا۔

لبنان کے نومنتخب صدر اس وقت 80 کے پیٹے میں ہیں اور وہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے قریبی اتحادی ہیں۔ان کا انتخاب ایک سیاسی سمجھوتے کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے اور اس کے تحت اب توقع ہے کہ سنی اکثریتی جماعت کے سربراہ سعد الحریری ملک کے نئے وزیراعظم بن جائیں گے۔

سابق وزیر اعظم سعد حریری نے گذشتہ جمعرات ہی کو صدر کے عہدے کے لیے میشال عون کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔میشال عون لبنان میں مسیحیوں کی سب سے بڑی جماعت آزاد محب الوطن تحریک ( فری پیٹریاٹک موومنٹ) کے بانی ہیں۔واضح رہے کہ لبنان میں مئی 2014ء سے صدر کا عہدہ خالی تھا اور پارلیمان متعدد اجلاسوں کے باوجود نئے صدر کے انتخاب میں ناکام رہی تھی۔لبنان کو عرب دنیا کا سب سے بدعنوان ترین ملک قرار دیا جاتا ہے۔