.

داعش کے 40 شامی جنگجوؤں کی لاشیں موصل سے الرقہ منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ کے مطابق عراق کے شہر موصل کے معرکوں میں ہلاک ہونے والے داعش تنظیم کے 40 شامی ارکان کی لاشیں الرقہ شہر پہنچا دی گئی ہیں۔

مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ "داعش تنظیم عراق کے شہر موصل میں کئی روز سے جاری لڑائی میں اپنے جنگجوؤں اور شامی ارکان سے مسلسل ہاتھ دھو رہی ہے۔ ایک جانب تنظیم موصل میں نام نہاد کامیابی کا جشن منار رہی ہے اور الرقہ میں تنظیم کے خطیب منبروں پر لوگوں کے سامنے موصل میں کامیابی کو حلب میں دابق کے ہاتھ سے نکل جانے کا بدلہ قرار دے رہے ہیں.. دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تنظیم کے شامی شہریت رکھنے والے 40 ارکان کی لاشیں الرقہ شہر پہنچی ہیں۔ ان میں زیادہ تر جنگجو بچے ہیں جو موصل کی لڑائی میں مارے گئے۔ اس طرح 17 اکتوبر کو موصل آپریشن کے آغاز کے بعد سے داعش کے ہلاک ہونے والے ارکان کی تعداد 480 ہو گئی ہے جن میں 300 سے زیادہ جنگجو بچے ہیں"۔

شامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق اس سے قبل داعش تنظیم کے ارکان کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل قافلہ شام کے صوبے الرقہ میں تنظیم کے زیر قبضہ علاقوں میں پہنچی تھی۔ قافلے میں 24 فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کے ساتھ "داعش" تنظیم کی ایک اہم ترین شخصیت بھی تھی۔ خیال ہے کہ وہ تنظیم کا سربراہ "ابو بكر البغدادی" یا تنظیم کا "وزیر جنگ" ہے۔ یہ قافلہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب عراق سے الرقہ شہر پہنچا۔ قافلے میں سوار ارکان کے پاس راکٹ لانچروں اور بھاری ہتھیاروں کی بڑی تعداد تھی۔