انسانی کھوپڑیوں سے کھیلنے والے فُٹ بال سے متنفر کیوں؟
حال ہی میں سعودی عرب کی پولیس نے ملک کے مغربی شہر جدہ میں واقع ’’الجوہرہ‘‘ فٹ بال اسٹیڈیم میں دہشت گردی کی سازش ناکام بناتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کیا تو اس واقعے نے فٹ بال کے خلاف دہشت گردوں کی نفرت کے واقعات ایک بار پھر ابھر کرسامنے آگئے۔
سعودی عرب میں فٹ بال اسٹیڈیم میں دہشت گردی کی سازش نے یہ سوال ایک بار پھر اٹھا دیا کہ دہشت گرد عناصر فٹ بال جیسی صحت مند تفریح سے دشمنی کیوں کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب کہ سعودی عرب میں کسی اسٹیڈیم کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
دہشت گرد تنظیمیں حالیہ کچھ عرصے کے دوران منظم انداز میں کھیل کے میدانوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی مرتکب ہوچکی ہیں۔ مئی سنہ 2016ء کو فرانس اور بیلجیم میں برطانیہ اور فرانس کے ہزاروں تماشائیوں کو فرانسیسی شہر سان ڈونی میں ہونے والے یورپی فٹ بال میچ میں ہلاک کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی۔ اس سازش کے لیے بھی دہشت گردوں نے خود کش بمبار تیار کیے اور کلاشنکوف سے تماشائیوں پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔
سنہ 2014ء میں داعش کی جانب سے ایک وارننگ جاری کی گئی جس میں سنہ 2022ء میں قطر کی میزبانی میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں بم دھماکوں کی دھمکی دی گئی تھی۔
شدت پسند گروپوں اور بعض دہشت گرد کمانڈروں کے ہاں فٹ بال کے بارے میں پائے جانے والے خیالات و نظریات میں یکسانیت دکھائی نہیں دیتی۔ بعض نے فٹ بال کو بہت پسند کیا اور انہیں فٹ بال ٹیموں کا گرویدہ دیکھا گیا۔ بعض نے اسے حرام قرار دیا اور کچھ اس سے بھی آگے بڑھے اور دھماکوں سے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو ہلاک کرنے کی سازش تیار کی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انٹیلی جنس معلومات سے پتا چلتا ہے کہ القاعدہ کے بانی رہ نما اسامہ بن لادن آرسنال انگلش فٹ بال کلب کے گرویدہ تھے اور کسی دور میں وہ خود بھی لندن میں ہونے والے ’’ھائپری‘‘ اسٹیڈیم میں مقابلوں میں ایک تماشائی کے طور پر شریک رہ چکے ہیں۔
برطانوی اخبار ’’میرر فٹ بال‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بن لادن نے ایک سے زاید بار لندن کا وزٹ یہاں پرہونے والے فٹ بال مقابلوں کا تماشا دیکھنے کے لیے کیا تھا۔ وہ سنہ 1994ء میں لندن میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کو دیکھنے بھی برطانیہ آئے۔ انہوں نے ارسنال کلب اور بیلجیم کے اسٹینڈرلیگ کے درمیان ہونے والے میچ کو اپنے بچوں اور دیگر احباب کے ہمراہ لندن میں دیکھا۔
داعش کےسربراہ ابو بکر البغداد کا واحد پسندیدہ کھیل فٹ بال سمجھا جاتا ہے۔ اخبار ٹیلی گراف کے مطابق البغدادی جب بغداد میں الطبجی کالونی میں ایک مسجد میں امام تھے توانہوں نے مسجد کی فٹ بال کمیٹی قائم کررکھی تھی۔ وہ خود بھی فٹ بال کے بہترین کھلاڑی تھے۔
القاعدہ کے ایک دوسرے رہ نما عبدالعزیز المقرن جنہیں 18 جون 2003ء کو سعودی عرب میں ہلاک کیا گیا بھی فٹ بال کے شائقین میں شامل تھے۔ عبدالعزیز المقرن پر امریکی انجینیر پاپ مارشل جونسن کو اغواء کے بعد قتل کے منصوبہ ساز تھے۔
القاعدہ کی یمن میں سرگرم شاخ کے سربراہ جلال بلعیدی جو ’’انصار الشریعہ‘‘ نامی شدت پسند تنظیم کے بھی لیڈر تھے فٹ بال کے دلدادہ تھے۔ یہاں تک کہ وہ شدت پسند گروپوں میں شامل ہونےسے قبل خود بھی یمن کی فٹ بال ٹیم میں شامل رہے۔
شدت پسند تنظیموں کے سربراہان اور سرکردہ رہ نماؤں کی جانب سے جہاں فٹ بال کو بہت پسند کیا جاتا رہا ہے وہیں ان میں بعض ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو فٹ بال جیسی صحت مند تفریح کی بھی ’تکفیر‘ سے باز نہیں آئے۔
شدت پسندوں ہی کی جانب سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں خواتین کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ کھلاڑیوں سے شادی سے سختی سے اجتناب کریں۔
یہ فتویٰ کسی خاتون ہی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر جاری کیا۔ فتویٰ نما بیان میں کہا گیا کہ خواتین اپنے ملک اور دوسرے ملکوں کے کھلاڑیوں سے شادی سے گریز کریں ورنہ وہ [کھلاڑی] انہیں بھی کفر اور کفریہ سلطنت کی طرف لے جائیں گے۔
جہادی تنظیموں کی طرف سے کھیل اور فٹ بال کی اس لیےبھی مخالفت کی گئی کیونکہ ان کے خیال میں کھیل مسلمانوں کو جہاد سے دور کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بنیاد پرست عناصر نے جہاد سےمتعلق بعض سرگرمیوں مثلا نیزہ بازی، نشانہ بازی، گھوڑ سواری اور تیر اندازی کو آلات جہاد قرار دے کر ان کی مشق کرنے اور ان میں شوق پیدا کرنے پر زور دیا۔
کھیل کے مخالفین میں القاعدہ کے سرکردہ رہ نما المقدسی، ایمن الظواہری اور سلیمان العلوان کے ساتھ ساتھ عبداللہ عزام کے مقرب اردن کے ایک اخوان شاعر یوسف ابو ھلالہ بھی فٹ بال کے خلاف تھے۔ ابو ھلالہ نے سنہ 1984ء میں ایشیا کپ میں سعودی عرب کی جیت پر ایک نظم لکھی جس میں اس نے کھیل کود پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا فلسطین آزاد ہوچکا کہ عالم اسلام فٹ بال کے مقابلوں کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے داعش کے ہاں سرگرم ایسے جہادی عناصر پرروشنی ڈالی ہے جن کا ماضی کسی نا کسی شکل میں فٹ بال سے وابستہ رہاہے۔ یہ جنگجو شدت پسندی کی طرف مائل ہونے اور مشرف بہ داعش ہونے سے قبل اپنے اپنے ملکوں میں فٹ بال کے گرویدہ ہی نہیں بلکہ خود بھی اچھے خاصے کھلاڑی تھے۔
داعش کے لیے فٹ بال چھوڑنے والوں میں مصر کے سابق کوچ محمود الغندور شامل ہیں۔ داعش میں شمولیت کے بعد انہوں نے اپنا نام تبدیل کرکے ابو دجانہ الغندور رکھا۔ کویتی نژاد محمد اموازی داعش کے ‘جہادی جون‘ جو داعش کا قصاب بھی مشہور رہا فٹ بال چھوڑ کر داعش میں شامل ہوا۔ محمد حسن الکواش کا تعلق تیونس سے ہے اور وہ تیونس کے افریقی فٹ بال کلب کا بہترین کھلاڑی رہا۔ سابق جرمن یوتھ کلب کا رکن بوراک کوران بھی داعش میں شمولیت سے قبل فٹ بال ٹیم کا حصہ تھا۔
داعش کے عشق میں فٹ بال ترک کرنے والوں میں فرانس کی ’’فنسٹن‘‘ ٹیم کا رکن مائیکل ڈوس سانٹیوس کا نام بھی نمایاں ہے۔ دہشت گرد گروپ میں شمولیت کے بعد اس نے اپنا جہادی نام ابو عثمان رکھا اور 18 یرغمالیوں کے سرقلم کرنے کی ایک کارروائی میں بھی شامل رہا۔
پرتگال کےسیلسو روڈر ریگزدا نے داعش میں شمولیت سے قبل فٹ بال کو خیر آباد کہا اور داعش میں شامل ہوکراپنا نام ابو عیسیٰ الاندلسی رکھا۔ داعشی جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل کیے گئے لوگوں کی کھوپڑوں کو فٹ بال کی طرح الاندلسی کو ککیں لگاتے دیکھا گیا۔
داعش اپنی سفاکیت اور بے رحمی کے حوالے سے مشہور ہیں۔ وہ مخالفین کو معمولی جرائم میں نہایت بے رحمی کے ساتھ قتل کرتے اور ان کے قتل کے مناظر کو کیمروں کے ذریعے محفوظ کرکے انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے جیسے گھناؤنے جرائم میں بھی ملوث رہے۔ فٹ بال سے نفرت کے ساتھ ساتھ داعشی دہشت گردوں کی کئی ایسی تصاویر اور فوٹیجز سامنے آئیں جن میں انہیں مقتول لوگوں کی کھوپڑیوں کو فٹ بال بنائے ان سے کھیلتے دیکھا گیا۔
داعش کے مذہبی اکابرین کی طرف سے فتاویٰ جاری کیے گئے جن میں فٹ بال سمیت کسی بھی قسم کے کھیل کو ‘روح جہاد‘ کے منافی قرار دیا گیا، اسی وجہ سے ان کے ہاں فٹ بال حرام ٹھہرا۔
-
موصل میں انسانی ڈھالیں، داعش کے ہاتھوں 8 ہزار خاندان اغوا
اقوام متحدہ نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ "داعش" تنظیم نے موصل شہر کے ...
مشرق وسطی -
موصل میں داعش کے 900 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں : امریکا
ایک امریکی جنرل نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ 17 اکتوبر کو موصل کے آزاد کرائے ...
مشرق وسطی -
موصل : البغدادی جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے.. داعش میں پھوٹ
موصل میں داعش تنظیم کے اندر پھوٹ پڑنے اور تنظیم کی جانب سے متعدد ارکان کو موت کے ...
مشرق وسطی