2035ء میں امریکا کے ٹکڑے ہوجائیں گے : ایرانی باسیج کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام باسیج فورس کے کمانڈر محمد رضا نقدی کا کہنا ہے کہ "اشتراکیت کا خاتمہ قریب ہے اور 2035 میں امریکا کا سقوط ہو جائے گا"۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے نزدیک سمجھی جانے والی یہ سخت گیر شخصیت اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے معروف ہے۔ نقدی کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں شہریوں کی زندگی اور سکیورٹی کی صورت حال "انتہائی خراب" ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کے ساتھ گفتگو میں باسیج کے کمانڈر نے کہا کہ " 5 کروڑ امریکی شہری حکومتی امداد پر زندگی نہیں گزار رہے اور 70 لاکھ شہری ٹھکانے کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں جب کہ امن و امان کے عدم وجود کی سطح بھی بلند ہے"۔

نقدی نے کہا کہ "پسِ پردہ رہ کر امریکا کو چلانے والے نظام اور طاقت کے نزدیک امریکا کا 2035 میں سقوط ہوجائے گا۔ میری رائے میں یہ تجزیہ رجائیت پر مبنی ہے کیوں کہ میرے نزدیک یہ واقعہ مذکورہ سال سے پہلے ہی واقع ہو جائے گا"۔

باسیج فورس کے خیال میں امریکا میں صورت حال سنگین نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ وسیع سماجی خلیج نظر آ رہی ہے اور بعض علاقوں میں تو لوگ انگریزی میں بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔ ایسی ریاستیں بھی ہیں جو علاحدگی کے لیے پر تول رہی ہیں۔ یہ تمام امور امریکا کے ٹکڑے کر دیں گے۔

محمد رضا نقدی 1954 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوا۔ وہ شیعہ مذہبی شخصیت شیخ علی اکبر ثمانی کا بیٹا ہے۔ 1979 میں وہ ان ایرانی خاندانوں میں شامل تھا جن کو صدام حسین کی حکومت نے عراق سے نکالا۔ یہ خاندان ایران میں آ کر نقدہ شہر میں سکونت پذیر ہوئے۔

1980 میں عراق ایران جنگ کے آغاز پر محمد رضا نقدی 26 برس کی عمر میں عراق میں اسلامی انقلاب کی سپریم کونسل سے منسلک ہو گیا۔ اگلے برس 1981 میں اس نے لبنان جا کر "امل تحریک" کے کیمپ میں عسکری فنون اور گوریلا جنگ کی تربیت حاصل کی۔

ایک برس بعد وہ ایران واپس لوٹا اور سپریم کونسل کے عسکری بریگیڈ میں شامل ہو گیا۔ 1985 میں نقدی لبنان منتقل ہو گیا جہاں اس نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ وہ عراق کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد تک شام میں بھی کارروائیاں کرتا رہا۔

گزشتہ صدی میں 90ء کی دہائی میں محمد رضا نقدی ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس میں شامل ہوا اور عراق اور سوڈان میں اپنی انٹیلجنس سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ 1994 میں اس نے قدس فورس کی انٹیلی جنس کے نائب کا منصب سنبھال لیا۔

1995 میں اس کو ترقی دے کر بریگیڈیئر جنرل بنا دیا گیا جس کے بعد علی خامنہ ای کے حکم پر نقدی کو منتقل کر کے ایرانی داخلہ سکیورٹی کا سربراہ بنا دیا گیا۔

محمد رضا نقدی نے 1988 میں تہران میں ہونے والے طلبہ احتجاجوں کو کچلنے میں فعال کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں نقدی کا نام سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ 2009 میں سبز تحریک کے زیر انتظام احتجاجوں کے خلاف خونی کریک ڈاؤن میں بھی پیش پیش رہا۔

2009 سے محمد رضا نقدی پاسداران انقلاب کی باسیج فورس کے کمانڈر کے منصب پر ہے۔ اس نے کئی مرتبہ اپنے بیانات میں اسرائیل کے خاتمے ، ایران میں مغرب اور امریکا کے رسوخ کا مقابلہ کرنے ، ایران میں اصلاح پسندوں کے خاتمے کے علاوہ شام اور عراق میں ایران کے زیادہ بڑے عسکری اور سکیورٹی رسوخ کے مطالبے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں