شام : مشرقی حلب کی تقسیم کے اندیشے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی حکومت کے زیر قیادت حلب شہر پر شدید حملے کے تناظر میں شہر کے مشرقی حصے کے تقسیم ہو جانے کے اندیشوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مشرقی حلب کی تقسیم شامی اپوزیشن کے لیے نئے محاذوں کو کھول دے گی جس کے نتیجے میں بشار حکومت کو اپوزیشن کے گڑھ شمار کیے جانے والے علاقوں میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ شمالی شام میں بشار حکومت کے خلاف بر سر پیکار سب سے بڑی جماعت الجبہۃ الشامیۃ کے حلب سیکٹر کے کمانڈر ابو عبدالرحمن نور نے بھی اس حوالے سے خبردار کیا ہے۔ نور کے مطابق اگر شامی حکومت کی فوج مشرقی حلب کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ "شامی اپوزیشن کے لیے ایک الم ناک آفت ہوگی"۔

شامی حکومت تقسیم کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے پانچ روز سے کوشاں ہے۔ اس دوران اس کی فورسز اور معاون ملیشیاؤں نے شمال مشرقی علاقے میں عسکری کارروائیوں کو شدید تر کر دیا ہے۔ علاقے میں فرنٹ لائن پر منظم اور انتہائی شدید انداز سے بم باری اور گولہ باری کی جا رہی ہے۔

بشار حکومت نے ستمبر میں اپنے نئے حملے کے آغاز سے قبل روسی فضائیہ کے علاوہ ایرانی ، عراقی اور لبنانی ملییشیاؤں کی معاونت سے حلب کے مشرقی حصے کا گھیراؤ کرنے کے بعد اس پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔

شہر کے مشرقی حصے میں تقریبا 2.5 لاکھ شامی شہری محصور ہیں جن کے پاس زندگی گزارنے کے لیے بنیادی اشیاء ختم ہو چکی ہیں جب کہ مسلسل حملوں کے نتیجے میں ہسپتال بھی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔

اس صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے مغربی ممالک نے معاملات کے ابتر ہونے کی پر زور مذمت کی ہے۔ بالخصوص شامی حکومت نے ابھی تک علاقے میں بین الاقوامی امداد کے داخلے اور زخمیوں کو نکالے جانے کے مںصوبے پر عمل درامد کو قبول نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب فرانس نے شامی حکومت اور اس کے حلیفوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصب سنبھالنے سے قبل اس "جامع جنگ" کو تیز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے شامی اپوزیشن گروپوں کی سپورٹ کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے عندیہ تھا کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں روس کے ساتعھ تعاون کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں