شام میں اسد حکومت اور باغیوں میں مکمل جنگ بندی کا آغاز
ترکی شامی باغیوں اور روس اسد حکومت کی جنگ بندی کی پاسداری کا ضامن ہوگا
شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت اور باغی گروپوں نے ملک بھر میں جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور اس پر (جمعرات کی شب سے) عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔ترکی باغی گروپوں کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کا ضامن ہوگا جبکہ روس نے شامی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کرانے کی ہامی بھری ہے۔
شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی سیاسی کونسل کے رکن اور باغی گروپ صقرالشام کے ترجمان مامون الحاج موسیٰ نے کہا ہے کہ کوئی باغی گروپ جنگ بندی سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ''ہماری یہی بنیادی شرط تھی کہ کسی باغی گروپ کو جنگ بندی سے باہر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حال ہی میں جبہۃ فتح الشام کے صرف دو سو جنگجوؤں کی وجہ سے حلب کو ادھیڑ دیا گیا ہے۔اس لیے ہمارا مطالبہ تھا کہ فتح الشام ہو یا کوئی اور گروپ ،کسی کو بھی جنگ بندی سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے''۔
شام میں اس نئی جنگ بندی کا روس نے جمعرات کو سب سے پہلے اعلان کیا ہے۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ روس اور ترکی اس جنگ بندی سمجھوتے کے ضامن ہوں گے۔
کریملن کے بیان کے مطابق صدر پوتین نے یونانی وزیراعظم الیکسس سپراس اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے فون پر بات کی ہے اور ان سے دیگر موضوعات کے علاوہ شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے سمجھوتے پر باغی گروپوں فیلق الشام ،احرارالشام ،جیش الاسلام ،تہورالشام،جیش المجاہدین ،جیش ادلب اور الجبہ الشامیہ نے دستخط کیے ہیں۔
قبل ازیں ترکی نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کے تحت شام سے نکل جائے۔ واضح رہے کہ حزب اللہ نے صدر بشارالاسد کی حمایت میں ہزاروں جنگجوؤں کو شام میں بھیج رکھا ہے اور وہ شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔
درایں اثناء شامی کردوں کے دھڑوں اور ان کے اتحادیوں نے ملک کے شمال میں ایک وفاقی نظام حکومت کے خاکے کی منظوری دے دی ہے۔ان گروپوں کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''اس نئے سماجی معاہدے کے مسودے کی توثیق کردی گئی ہے اور انتظامی کمیٹی انتخابات منعقد کرانے کی تیاری کرے گی۔ وہ پہلے علاقائی انتظامیہ اور پھر مرکزی ادارے کے انتخابات کرائے گی۔تاہم انھوں نے انتخابات کی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے''۔