.

بے گھر خواتین کو بانجھ کرنے کی تجویز پر روحانی کی مشیر پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا نے صدر حسن روحانی کی مشیر برائے امور خواتین شہيندخت مولاوردی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے قبرستانوں میں رہنے والی خواتین کو نس بندی کے ذریعے بانجھ کر دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ تجویز دارالحکومت تہران کے جنوب میں سیکڑوں غریب اور بے گھر افراد کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے سردی اور بارش کے سبب قبروں کو اپنی پناہ گاہ بنا لیا۔

ایرانی روزنامے "وطن امروز" کے مطابق تہران صوبے کے بعض ذمے داران اور پارلیمنٹ میں صحت کی کمیٹی کے نمائندوں کی جانب سے وزارت صحت کے اجلاسوں میں یہ بات سامنے رکھی جاتی رہی ہے کہ سماجی طور پر معاشرے کو ضرر پہنچانے والی خواتین کو بانجھ کر دیا جائے تاکہ وہ مزید بے گھر افراد کو جنم نہ دیں۔

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ روحانی کا یہ موقف ایران کے عالمی شہرت یافتہ ہدایت کار اصغر فرہادی کی جانب سے ان کے نام لکھے گئے خط کے جواب میں سامنے آیا۔ فرہادی نے اپنے کھلے خط میں روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " جنابِ صدر کیا آپ اس بات کو قبول کریں گے کہ آپ کے اہل خانہ یا کوئی رشتے دار دارالحکومت تہران اور باقی شہروں میں قبروں میں رہیں یا عام شاہراہوں پر کارٹن میں سوئیں ؟ "

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کا ایک بیان گردش میں رہا جس میں انہوں نے چند سال قبل یہ کہا تھا کہ انہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ مصری دارالحکومت میں لوگ قبرستانوں میں رہتے ہیں۔ خامنہ ای نے اس پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار بھی کیا تھا۔

ادھر ایرانیوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خامنہ ای دنیا کے تمام ممالک پر توجہ مرکوز رہتی ہے اور وہ تیل کی آمدنی کو خطے کے ممالک میں اپنی فوجی مداخلت اور دہشت گردی کی سپورٹ پر خرچ کرتے ہیں جب کہ ان کے اپنے عوام غربت کی بدترین حالت، محرومی اور کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

گزشتہ بدھ کو ایرانی حکام نے نصیر آباد کے قبرستان میں قبروں میں سکونت پذیر افراد پر دھاوا بول کر انہیں کسی متبادل پناہ گاہ فراہم کرنے کے بجائے نکال کر سڑکوں پر پہنچا دیا تھا۔

ایرانی حکومت کے زیر انتظام اخبار "شہروند" نے ان قبروں میں رہنے والے 300 مردوں ، عورتوں اور بچوں کے بارے میں رپورٹ بھی شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق "ایک قبر میں 1 سے 4 افراد تک رہتے ہیں"۔

اس سے قبل اکتوبر میں ایرانی دارالحکومت کی بلدیہ کے سربراہ محمد باقر قاليباف نے انکشاف کیا تھا کہ تہران میں 15 ہزار سے زیادہ غریب بے گھر شہری سڑکوں پر کارٹنوں میں سوتے ہیں جن میں 3000 خواتین بھی ہیں۔