.

انتہاپسندوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے شامی باغیوں کا بڑا اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی علاقے میں چھے باغی دھڑے ایک سخت گیر جنگجو گروپ کے حملوں سے بچاؤ کے لیے احرارالشام کی قیادت میں ایک اتحاد میں شامل ہوگئے ہیں۔

ماضی میں القاعدہ سے وابستہ جبہۃ فتح الشام نے اسی ہفتے حلب کے مغرب میں شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر پر حملے کیے ہیں۔جبہۃ نے ان گروپوں پر قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں اسی ہفتے مذاکرات کے دوران میں اپنے خلاف سازش کے تانے بانے بننے کا الزام عاید کیا ہے۔

احرارالشام جنگ زدہ ملک میں سنی جنگجوؤں پر مشتمل ایک بڑا باغی گروپ ہے اور اس نے جیش الحر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جبہۃ فتح الشام نے ثالثی کی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔ احرارالشام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ارکان پر کوئی بھی حملہ اعلان جنگ تصور کیا جائے گا اور وہ اس کا جواب دینے میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

باغی دھڑوں علویات ،صقورالشام ،فاستقیم ،جیش الاسلام کی ادلب شاخ ، جیش المجاہدین اور الجبہۃ الشامیہ کی مغربی حلب میں شاخ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے احرارالشام کے ساتھ اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔احرارالشام کے بیان میں اس اتحاد میں شامل ہونے والے چھٹے دھڑے کا نام شامی انقلابی بریگیڈز بتایا ہے۔

احرارالشام کو روس نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور اس نے آستانہ امن مذاکرات میں شرکت نہیں کی تھی۔تاہم اس کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد ہوتا ہے تو وہ جیش الحر کی حمایت کرے گا۔

واضح رہے کہ فتح الشام کے جیش الحر پر حملے سے اس گروپ کے ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔شامی صدر بشارالاسد کے مخالف ممالک خلیجی عرب ریاستیں ،ترکی اور امریکا اس کی حمایت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ جبہۃ فتح الشام کو عالمی سطح پر ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا جا چکا ہے اور یہ شامی بحران کے حل کے لیے ہر سطح پر تمام سفارتی کوششوں میں شامل نہیں ہے۔ روس اور ترکی کی ثالثی میں شام میں جاری جنگ بندی کا بھی اس گروپ اور داعش پر اطلاق نہیں ہوتا ہے اور امریکا نے نئے سال کے آغاز کے بعد اس گروپ پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

فتح الشام کے جنگجو جیش الحر کے باغیوں کے ساتھ مل کر ماضی میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑتے رہے ہیں لیکن وہ موقع ملنے پر جیش الحر کے خلاف بھی جنگ آزما ہوجاتے تھے اور انھوں نے کئی مرتبہ جیش الحر کو دوسرے ممالک سے ملنے والے ہلکے ہتھیار اور دوسرا امدادی سامان چھین لیا تھا۔