.

آستانہ میں ایک دن کی تاخیر کے بعد شام امن مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ایک دن کی تاخیر کے بعد شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے نمائندوں کے درمیان بحران کے حل کے لیے مذاکرات کا نیا دور جاری ہے۔

شامی تنازعے کے فریقوں کے درمیان ان مذاکرات کی روس ،ایران اور ترکی ثالثی کررہے ہیں۔قزاقستان کی وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار نے نیوزبریفنگ میں مقامی وقت کے مطابق 1600 بجے شامی نظام اور حزب اختلاف کے مندوبین کے درمیان مذاکرات کے ابتدائی سیشن کے آغاز کی اطلاع دی تھی۔

قزاقستان نے بدھ کے روز اطلاع دی تھی کہ نامعلوم فنی وجوہ کی بنا پر 15 فروری کو ہونے والے مذاکرات 16 فروری تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔ اس دوران میں فریقین نے دو طرفہ باہمی مشاورت بھی کی ہے۔

شامی باغیوں کے ایک ترجمان یحییٰ العریضی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف نے گذشتہ ماہ آستانہ میں بھیجے گئے وفد کے مقابلے میں ایک مختصر وفد ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے بھیجا ہے۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حزب اختلاف کے وفد کی قیادت جیش الاسلام کے رہ نما محمد علوش کررہے ہیں جبکہ شامی حکومت کے وفد کی قیادت اقوام متحدہ میں اس کے سفیر بشارالجعفری کررہے ہیں۔

انھوں نے روسی خبررساں ایجنسی ریا نووستی کو بدھ کے روز بتایا تھا کہ حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

روسی صدر کے نمائندے الیگزینڈر لافرینتیف اور ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین جابری ان مذاکرات میں شریک ہیں۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر آستانہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوسکیں گے بلکہ ان کی نمائندگی ان کے دفتر کی ایک ٹیکنیکل ٹیم کرے گی۔

قازق دارالحکومت میں گذشتہ ماہ روس ،ترکی اور ایران کی حمایت اور کوششوں کے نتیجے میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان بالواسطہ اور تیسرے فریق کے ذریعے مذاکرات ہوئے تھے لیکن ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

گذشتہ سال کے اوائل میں جنیوا میں شامی تنازعے کے فریقوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات منقطع ہونے کے بعد یہ پہلا ٹاکرا تھا۔ حالیہ بات چیت کا مقصد جنیوا میں 23 فروری کو ہونے والے مذاکرات کے لیے کسی مجوزہ ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

الباب میں 24 ہلاکتیں

درایں اثناء ترکی کے لڑاکا طیاروں کی داعش کے زیر قبضہ قصبے الباب پر بمباری کے نتیجے میں چوبیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ترک فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صرف دہشت گردوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ الباب پر گذشتہ چوبیس گھنٹے میں فضائی حملوں اور گولہ باری میں مرنے والوں میں گیارہ بچے بھی شامل ہیں۔
ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے فوج کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اس نے فضائی حملوں ،جھڑپوں اور گولہ باری میں پندرہ ''دہشت گردوں'' کو ہلاک کیا ہے۔