.

سعودی عرب کا عراق سے مل کر دہشت گردی مخالف کوششوں میں کام کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عراق کے ساتھ مل کر خطے میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے ہفتے کے روز بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب ابراہیم الجعفری کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں یہ بات کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب عراق کے ساتھ تعاون کو بڑھانا اور اس سے تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے۔

اس موقع پر ابراہیم الجعفری نے کہا کہ ’’ ہمیں ماضی میں جو کچھ غلط ہوا ہے،اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے دونوں ملکوں کے عہدہ داروں کے دوروں میں اضافہ کرنا چاہیے‘‘۔

العربیہ نیوز چینل کی اطلاع کےمطابق عادل الجبیر نے ابراہیم الجعفری کو بات چیت کے دوران یہ بھی بتایا ہے کہ سعودی عرب بہت جلد عراق کے لیے اپنا نیا سفیر نامزد کرے گا۔

قبل ازیں عراق کی کرد جمہوری جماعت ( کے ڈی پی) سے وابستہ ایک ٹیلی ویژن چینل کردستان 24 نے اپنی ویب سائٹ پر اطلاع دی تھی کہ عادل الجبیرعراقی عہدہ داروں کے ساتھ داعش مخالف جنگ ،خطے پر ایرانی اثر ورسوخ اور عراق میں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے کردار سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنے والے ہیں۔

عادل الجبیر 2003ء کے بعد عراق کے دورے پر آئے ہیں اور یہ سعودی عرب کے کسی اعلیٰ عہدہ دار کا 1990ء کے بعد عراق کا پہلا دورہ ہے۔