.

اپوزیشن ’حمص‘ بم دھماکوں کی کھل کر مذمت کرے:بشار الجعفری

حملےکی مذمت نہ کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ سمجھے جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا میں شام کے بحران پر بات چیت کے لیے آئے شام کے سرکاری مندوب بشار الجعفری نے اقوام متحدہ اور حزب اختلاف پر زور دیا ہے کہ وہ گذشتہ روز ’حمص‘ میں ہونے والے خوفناک بم دھماکوں کی کھل کر مذمت کریں، جن میں کم سے کم بیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی مندوب نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتےہوئے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی میستورا کے ذریعے شامی اپوزیشن تک ایک پیغام پہنچایا ہے جس میں اپوزیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کسی حیل ججت اور لگی لپٹی رکھے بغیر حمص میں ہونے والے دہشت گردانہ دھماکوں کی مذمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حمص میں دہشت گردی کی کارروائی میں النصرہ فرنٹ کا ہاتھ ہے۔ اگر اپوزیشن ان حملوں کی مذمت نہیں کرتی تو انہیں ان حملوں میں ملوث عناصر کا ساتھی سمجھا جائے گا۔ حمص دہشت گردی کی مذمت نہ کرنے والے کو دہشت گردوں کا ساتھی سمجھا جائے گا۔

الجعفری نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے امن مندوب کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ وہ خون خرابے اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے سامنے بات چیت کے لیے نہیں بیٹھ سکتے۔ اس لیے شامی اپوزیشن کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا کہ آیا وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے یا ملک میں امن چاہتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب ملک کر دہشت گردوں سے لڑیں۔ دہشت گردانہ کارروائیوں پر خاموشی خون خرابے کی حمایت سمجھی جائے گی۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے مندوب اسٹیفن دی میستوران نے حمص میں شامی ملٹری انٹیلی جنس کے ہیڈ کواٹر میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کی تھی۔ ان دھماکوں میں شامی انٹیلی جنس چیف سمیت 42 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ دی میستورا کا کہنا تھا کہ حمص میں حملہ شام میں قیام امن کی مساعی پر حملہ ہے۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن نے حمص دھماکوں کی مذمت کی ہے مگرساتھ ہی کہا ہے کہ ان حملوں کی سازش میں حکومت خود ملوث ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حمص حملے امن اوامان کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں۔