.

شاہ سلمان کی برونائی کے سلطان کے ساتھ دو طرفہ تعاون پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برونائی کے سلطان حسن البلقیہ کی ہفتے کے روز اپنے محل "قصرِ نور الایمان" میں سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سرکاری بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو زیر بحث لایا گیا۔

سلطان حسن کی جانب سے خادم حرمین شریفین کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا جس میں برونائی اور سعودی عرب کے متعدد ذمے داران نے شرکت کی۔

اس سے قبل سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنے ایشیائی ممالک کے تاریخی دورے کے ضمن میں ہفتے کی صبح برونائی پہنچے تھے۔ برونائی دار الاسلام کے سلطان حسن البلقیہ نے ہوائی اڈے پر اپنے خصوصی مہمان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر سلطان حسن کے بیٹے اور برونائی کے ولی عہد شہزادہ مہتدی باللہ ، وزیر مالیات عبدالرحمن بن ابراہیم ، امور خارجہ کے وزیر لِم جوک ، وزیر توانائی و صنعت محمد یاسین اور برونائی کے دیگر ذمے داران کے علاوہ برونائی میں سعودی عرب کے سفیر ہشام بن عبدالوہاب اور سعودی سفارت خانے کے ارکان بھی موجود تھے۔ شاہ سلمان ہوائی اڈے سے قصر نور الایمان روانہ ہوئے تو شہر کی سڑکوں پر دونوں طرف کھڑے عوام نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔

ہفتے کی صبح خادم حرمین شریفین انڈونیشا کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد روانہ ہوئے تو انہیں رخصت کرنے کے لیے جکارتہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر انڈونیشیا کے نائب صدر ڈاکٹر محمد يوسف كالا، مذہبی امور کے وزیر لقمان حکیم سیف الدین ، خاتون وزیر خارجہ ريتنو مارسودی اور دیگر اعلی ذمے داران کے علاوہ انڈونیشیا میں سعودی سفیر اسامہ بن محمد الشعیبی اور مملکت کے سفارت خانے کے ارکان بھی موجود تھے۔

روانگی سے قبل خادم حرمین شریفین کی جانب سے انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کے نام خصوصی تار بھی بھیجا گیا جس میں اُن کے اور انڈونیشیا کے عوام کی جانب سے پُرتپاک استقبال اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا گیا۔