.

مصطفی بدرالدین کے قتل میں قاسم سلیمانی کا کردار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" نیوز چینل نے منگل کی شب ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ نشر کی جس میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے کمانڈر مصطفی بدرالدین کی ہلاکت کے حوالے سے نئی تفصیلات اور ایران اور اس کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے بدرالدین سے بغض و عناد کا انکشاف کیا گیا ہے۔

سال 2013 میں حزب اللہ سے شام میں لڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔ حسن نصر اللہ نے اپنے کمانڈر مصطفی بدرالدین کو شام میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی قیادت سونپ دی۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کو قاسم سلیمانی کی قیادت میں شام بھیج دیا گیا۔ سلیمانی نے بدرالدین کے وسیع تجربے کو نظر انداز کرتے ہوئے شام کے معرکے کی پوری قیادت اپنے ہاتھ میں لینا چاہی۔

بدرالدین کی زندگی کا زیادہ تر حصہ یکے بعد دیگرے میدان جنگ میں گزرا۔ اس نے اپنے عناصر کی زبردست قیادت سے انہیں بڑی کامیابیوں سے ہم کنار کرایا اور جب حزب اللہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تو اس کی ذمے داری بھی قبول کی۔ بعد ازاں شام میں بدرالدین پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ قاسم سلیمانی ایرانی فوجیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے واسطے حزب اللہ کے عناصر کو معرکے میں جھونکنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس پر بدرالدین نے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جنگجوؤں کی قیادت اپنے تجربے اور جان کاری کی روشنی میں خود کرے گا۔ بدرالدین کے قاسم سلیمانی کے ساتھ مسلسل اختلاف اور ٹکراؤ نے ایرانی نظام کے لیے مشکل پیدا کر دی جس پر تہران حسن نصر اللہ کے ساتھ مل کر بدرالدین سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی پر مجبور ہو گیا۔