اسد رجیم کے ہوتے ہوئے شام میں انتخابات نہیں ہوسکتے: دی میستورا
آستانا میں طے پایا جنگ بندی معاہدہ ابھی تک موثر ہے
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی میستورا نے کہا ہے کہ اسد رجیم کے اقتدار میں رہتے ہوئے شام میں شفاف انتخابات کا کوئی امکان نہیں۔
شام کے لیے عالمی امن مندوب نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں ’العربیہ‘ کے نامہ نگار طلال الحاج سے بات کرتے ہوئے کیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شام میں انتقال اقتدار کا معاملہ 23 مارچ کو ہونے والے مذاکرات کے دور میں بھی زیر بحث آئے گا۔
دی میستورا کا کہنا تھا کہ آستانا میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان روس اور ترکی کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پایا جنگ بندی معاہدہ ابھی تک موثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں تشدد کے واقعات میں کمی سے جنیوا مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ جو قوتیں شام میں لڑائی روکنے کے لیے اپنا اثرو نفوذ استعمال کرسکتی ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ شام میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ ابھی تک شام میں جنگ بندی معاہدہ قائم ہے کیونکہ اس کے ضامن ممالک ایران، ترکی اور روس گیم کے اصولوں سے متفق ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم کہ ہم آستانہ مذاکرات کو اہمیت کے حامل قرار دیتے ہیں۔ اگر ہم شام میں تشدد کے واقعات کم کر پائے تو جنیوا مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوگی۔
-
دی میستورا سے ملاقات ماضی کی نسبت امید افزاء رہی:اپوزیشن
جنیوا میں شام کےبحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے دوران شامی اپوزیشن ...
مشرق وسطی -
’اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل میں سعودیہ کا کوئی کردارنہیں‘
دی میستورا متوازی مذاکراتی گروپ کی تشکیل سے باز رہیں: اپوزیشن
مشرق وسطی -
ڈی میستورا نے شامی اپوزیشن کو دی گئی تنبیہ واپس لے لی
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا آئندہ چند روز کے دوران ...
مشرق وسطی