حزب اللہ شام میں مداخلت کی بھاری قیمت چُکا رہی ہے
شام کی جنگ میں حزب اللہ ملیشیاؤں کی بشار حکومت کی جانب سے شرکت نے کئی علاقوں میں اس جنگ کو مسلکی تنازع میں تبدیل کر دیا۔ شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے عوامی مزاحمت کی تردید شروع کر دی تھی جب کہ حمص سے لے کر درعا تک شام کے شہروں میں عوامی انقلاب کے شعلے بھڑک چکے تھے۔
سال 2012 میں حزب اللہ شامی حکومت کے دفاع کے واسطے جنگ لڑنے کے لیے القصیر شہر منتقل ہو گئی.. اور شامی حکومت کے ساتھ تہران کے اتحاد کی مساوات میں حزب اللہ ایک مشکل عدد بن گئی۔
تاہم شام میں انسانی حقوق کے مانٹیرنگ گروپ کے مطابق اس مساوات میں فِٹ ہونے کے لیے حزب اللہ کو 1500 ہلاکتوں کا ہرجانہ ادا کرنا پڑا جب کہ زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں ملتے۔
میدان جنگ میں بھاری نقصانات کا نتیجہ بھاری مادی واجبات کی صورت میں سامنے آیا۔ ان میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے اخراجات اور بھرتی ہونے والے ہزاروں نوجوانوں کو فی کس 600 ڈالر کی تنخواہ کی ادائیگی شامل ہے۔
یہ واضح رہے کہ شام میں حزب اللہ کی شرکت سے اُس کی لبنان میں ذمے داریاں ختم نہیں ہوئیں۔ ان میں اہم ترین ذمے داری سنی اکثریت والے علاقوں یا شامی پناہ گزینوں کے کیمپوں کے قریب حزب اللہ کے بریگیڈز کی ملیشیاؤں کو مالی رقوم کی فراہمی ہے تاکہ ان مقامات کا سکیورٹی اور عسکری کنٹرول اپنے پاس رکھا جا سکے۔
حزاب للہ کی ملیشیاؤں کو بلیک لِسٹ تنظیم پر بین الاقوامی دباؤ کی قیمت بھی چکانا پڑ رہی ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں جنوبی امریکا سے دنیا بھر میں منشیات کی اسمگلنگ اور تجارت کے لیے حزب اللہ کے نیٹ ورکوں کا انکشاف ہوا ہے۔