"آزادیِ گولان بریگیڈ" شام میں بقاء کے لیے ایران کا نیا فریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب 38 برس سے مسئلہ فلسطین کو اپنے توسیعی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور "کمزوروں کی نصرت" کے نام پر "قدس فورس" کے ذریعے اس پر عمل درامد جاری ہے۔ اب شام میں اپنے رسوخ کو پھیلانے کے واسطے "گولان فورس" تشکیل دی گئی ہے۔ اس کی تشکیل کی ذمے داری ایرانی پاسداران انقلاب کی پیروکار عراقی شیعہ ملیشیا حرکت النجباء کو دی گئی تھی۔

ایسے وقت میں جب کہ بین الاقوامی اور خطے کی سطح پر شام سے ایرنی فورس اور اس کی ملیشیاؤں کو نکال باہر کرنے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں.. پاسداران انقلاب "گولان کی آزادی" کے نعرے کو رواج دے رہی ہے جیسا کہ ماضی میں وہ "القدس کی آزادی" کے نعرے کو گزشتہ کئی دہائیوں تک متعدد عرب دارالحکومتوں میں اپنا رسوخ پھیلانے کے لیے استعمال کرتی رہی۔

ایرانی نشریاتی ادارے کے زیر انتظام "یوتھ رپورٹرز کلب" کی ویب سائٹ نے حرکت النجباء کے سکریٹری جنرل اکرم الکعبی کا بیان نشر کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ آزادیِ گولان بریگیڈ کی تشکیل "محض کوئی میڈیا پروپیگنڈہ نہیں بلکہ یہ تحریک کا ایک حقیقی ہدف ہے"۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے زیر انتظام نیوز ایجنسی "تسنیم" کے مطابق عراقی شیعہ تنظیم حرکت النجباء کے ترجمان ہاشم الموسوی نے 8 مارچ کو تہران میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں آزادی گولان بریگیڈ تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ الموسوی کے مطابق "یہ بریگیڈ تربیت یافتہ اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس اسپیشل فورس پر مشتمل ہے"۔ الموسوی نے باور کرایا کہ " اگر شامی حکومت اس بریگیڈ سے مدد طلب کرتی ہے تو ہم گولان کی آزادی کے لیے اپنے حلیفوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں"۔ حرکت النجباء کے عسکری معاون نصر الشمری نے 9 مارچ کو "مہر" نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ آزادی گولان بریگیڈ کی تشکیل شامی حکومت کی فورسز کی مدد کے لیے عمل میں آئی ہے۔

ایران اس واسطے کوشاں ہے کہ شام میں اگر جنگ کا خاتمہ ہو بھی جائے تو وہاں ایران کے عسکری وجود اور دمشق میں فیصلوں کے مراکز پر اس کا غلبہ قائم رہنے کا جواز ہاتھ آجائے۔ اس کے لیے گولان کو واپس لینے میں مدد کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ لبنان میں حزب اللہ کی مدد اور عراق میں اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کی سپورٹ جاری رکھ کر کیا گیا۔ اس کے علاوہ یمن میں بھی باغیوں اور حوثی ملیشیاؤں کے ساتھ اتحاد کا یہ ہی مقصد ہے۔

یاد رہے کہ گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک ایرانی پاسداران انقلاب کی موجودگی کا آغاز دو سال سے زیادہ عرصہ قبل ہوا۔ جہاں جنوری 2015 میں شامی گولان کے نزدیک اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک جنرل محمد علی دادی اور لبنانی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے اُس کے 66 ساتھی مارے گئے تھے۔ ایرانی ویب سائٹوں نے گزشتہ برس جولائی میں شام کے جنوب میں القنیطرہ کے علاقے میں بسیج فورس کے سابق کمانڈر جنرل محمد رضا نقدی کے دورے کی تصاویر بھی جاری کیں۔ ایک اسرائیلی کارروائی میں نقدی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع تھی۔

ایسا نظر آتا ہے کہ خطے میں توسیع کے لیے ایرانی حکمت عملی مسئلہ فلسطین اور گولان کی آزادی کے معاملے سے فائدہ اٹھانے تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے والوں کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بات کا اظہار سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے 23 اکتوبر 2016 کو کیاتھا جو خود "بغداد میں تہران کے آدمی" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ مالکی کا کہنا تھا کہ "نینوی میں کارروائیوں میں معاونت کے لیے آمد کا دوسرا معنی الرقۃ ، حلب اور یمن میں بھی آمد ہے"۔

یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ "آزادیِ گولان" آئندہ مرحلے میں شام میں ایران اور اس کی ملیشیاؤں کی موجودگی کے جواز کا نعرہ ہوگا۔ یہ اور ماضی میں اس جیسے دیگر نعرے ایک حقیقت باور کراتے ہیں کہ تہران میں ولایت فقیہ کا نظام عرب دنیا میں اپنے غلبے اور رسوخ کو پھیلانے کے جواز کے واسطے تمام نعروں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ یکے بعد دیگرے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں