غربِ اردن: فلسطینی کا مبینہ کار حملہ، ایک اسرائیلی ہلاک ،ایک زخمی
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ مقبوضہ غربِ اردن میں ایک فلسطینی نے اپنی کار ایک بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھادی ہے جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔
صہیونی فوج نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح یہ واقعہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے مشرق میں واقع یہودی بستی عوفرا کے نزدیک پیش آیا ہے اور اس حملے کے بعد فلسطینی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ہلاک ہونے والے یہودی نوجوان کی عمر بیس سال بتائی گئی ہے۔زخمی اسرائیلی کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے مطابق واقعے کے وقت اسرائیلی (یہودی) ایک بس اسٹاپ کے نزدیک کھڑے تھے۔واضح رہے کہ اکتوبر 2015ء سے اب تک اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ بیت المقدس ، غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں سفاکانہ کریک ڈاؤن کارروائیوں، فائرنگ اور حملوں میں ڈھائی سو فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں سے ڈیڑھ سو کے بارے میں اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے۔
اس عرصے کے دوران میں فلسطینیوں کے مبینہ چاقو حملوں ،فائرنگ یا اپنی گاڑیوں کو راہ گیروں پر چڑھانے کے واقعات میں 40 سے زیادہ اسرائیلی ، دو امریکی ،ایک اردنی،ایک سوڈانی اور ایک ایریٹرین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جذبات انگیز مہم کی وجہ سے اس طرح کے تشدد کے واقعات کو مہمیز مل رہی ہے کیونکہ سوشل میڈیا کی ویب گاہوں پر فلسطینی حملہ آوروں کی تحسین اور تشدد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
دوسری جانب فلسطینیوں کا موقف ہے کہ اسرائیل کی مقبوضہ علاقوں میں برسوں سے ظالمانہ کارروائیوں کے بعد فلسطینی نوجوان مایوسی کے عالم میں کار یا چاقو حملے کررہے ہیں کیونکہ عالمی برادری بھی انھیں انصاف دلانے میں ناکام رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی فوج پر یہ الزام عاید کرچکی ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف محاذ آرائی میں طاقت کا بے محابا استعمال کررہی ہے اور محض شک کی بنا پر چیک پوائنٹس یا سرحدی گذرگاہوں پر فلسطینیوں کو گولیاں مار دی جاتی ہیں جبکہ طاقت کا وحشیانہ اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کا کوئی احتساب بھی نہیں کیا جاتا ہے۔