شام : خان شیخون پر فضائی حملے میں ایک عورت ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پر فضائی حملے میں ایک عورت ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوگیا ہے۔اسی قصبے پر گذشتہ منگل کے روز کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ستاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ خان شیخون کے مشرقی حصے پر بمباری کی گئی ہے اور اس سے ایک عورت ماری گئی ہے۔ایک اور مانیٹرنگ گروپ مقامی رابطہ کمیٹیوں نے کہا ہے کہ روس کے لڑاکا طیارے نے یہ فضائی حملہ کیا ہے۔

خان شیخون پر کیمیائی حملے کے بعد امریکا نے جمعہ کو شام کے وسطی علاقے میں ایک ائیربیس پر میزائل حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عالمی طاقتوں نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو اس کیمیائی حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا لیکن شامی حکومت نے اس حملے میں اپنی فوج کے کسی قسم کے کردار سے انکار کیا تھا۔ روس نے ادلب میں اس تباہ کن کیمیائی حملے کے باوجود اپنے اتحادی بشارالاسد اور ان کی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو نے شام میں امریکا کی اسد رجیم کے خلاف مداخلت کو مناسب قرار دیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ ناکافی ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے جنوبی شہر اناطالیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہ مداخلت صرف ایک ائیربیس تک محدود ہے،اگر یہ جاری نہیں رہتی ہے اور اگر ہم اس نظام کا سر سے خاتمہ نہیں کرتے ہیں تو پھر یہ لیپا پوتی والی ہی مداخلت رہے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’شامی بحران کا سب سے آئیڈل حل سیاسی ہی ہوسکتا ہے اور اس سیاسی عمل کے نتیجے میں تمام شامیوں کے لیے قابل قبول حکومت جلد سے جلد قائم کی جائے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ظالم اسد کو جانا ہوگا۔اس کی جگہ اگر عبوری حکومت قائم ہوجاتی ہے تو اس کے تحت انتخابات کرائے جائیں گے اور ان میں اندرون اور بیرون ملک رہنے والے شامی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں