.

موصل میں داعش مخالف جنگ، عراق فوج کہاں پہنچی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں دولت اسلامی’داعش‘ کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے سربراہ نے انسداد دہشت گردی فورسز نے موصل کے دائیں ساحلی علاقے پر واقع ’الانبار‘ کالونی سے دہشت گردوں کو نکال باہر کیا ہے۔ کالونی میں موجود تمام سرکاری عمارتوں پر عراق کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’قادمون یا نینویٰ‘[ اے نینویٰ ہم آ رہے ہیں] کے انچارج جنرل عبدالامیر یار اللہ نے بتایا کہ الانبار کالونی میں کارروائی کے دوران داعشی دہشت گردی کو غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تازہ آپریشن میں فوج کے آرٹلری بریگیڈ 9 نے مغربی موصل کے شویطہ، تل العصفور، شمالی عطاشنہ، الصابونیہ قصبہ اور دیگر مقامات کو داعش سے چھڑانے کے بعد وہاں پر عراقی پرچم لہرایا گیا ہے۔عراقی فوج نے دریائے دجلہ کے جنوبی کنارے پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔

جمعرات کو عراقی فوج کے ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ فورسز مغربی موصل کی التنک کالونی سے داعش کو نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

سارجنٹ علی احمد نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی فورسز نے مسلسل 13 گھنٹے کی لڑائی کے بعد التنک کالونی سے داعش کے جنگجوؤں کو مار بھگایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ التنک کالونی پر قبضے کے بعد کالونی کے دیگر پانچ اہم مقامات پربھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔

سارجنٹ علی احمد نے بتایا کہ التنک کالونی میں دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی میں 13 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ تین کو پکڑا گیا ہے جب کہ فورسز کو روکنے کے لیے تیار کی گئی کئی خود کش کاریں بھی تباہ کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ داعش کے حملے میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ ادھر دوسری جانب عراق کی فیڈرل پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی موصل میں فورسز نے پرانی شہر اور جامع مسجد النوری کی طوری پیش قدمی کی ہے۔

پولیس چیف راید شاکر جودت نے ایک بیان میں بتایا کہ پولیس نے مغربی موصل میں لڑائی کے دوران 13 داعشی دہشت گردوں کو ہلاک اور بارود سے بھری چار گاڑیاں تباہ کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے فضائیہ کالونی کے شمال میں داعش کا ایک ڈرون طیارہ بھی مار گرایا۔ اس کے علاوہ داعش کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے حملے کیےگئے ہیں۔