.

اسرائیلیوں کی بھوک ہڑتالی فلسطینیوں کو چِڑانے کے لیے بار بی کیو پارٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک انتہا پسند جماعت ایچود لیومی (نیشنل یونین ) کے ارکان نے غرب اردن میں واقع عوفر جیل کے باہر بار بی کیو کی مفت پارٹی منعقد کی ہے جبکہ جیل میں قید فلسطینیوں نے اسرائیلی حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف گذشتہ چھے روز سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔

انتہا پسند یہودیوں نے جمعے کو جیل کے باہر میزیں سجا رکھی تھیں،وہ مختلف اقسام کا گوشت پکا اور بھون رہے تھے اور اس کو آنے جانے والے راہگیر میں مفت تقسیم کررہے تھے۔وہ یہ سب کچھ فلسطینی قیدیوں کو چِڑانے کے لیے کررہے تھے۔

اسرائیلی جیلوں میں قید قریباً ڈیڑھ ہزار فلسطینیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں 17 اپریل سے اجتماعی بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ ان سے جیل میں قید مقبول عام فلسطینی لیڈر مروان البرغوثی نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کے طور پر قیدیوں کے سالانہ دن کے موقع پر بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے اور اسرائیلی حکام سے بہتر طبی سہولتوں سے لے کر ٹیلی فون مہیا کرنے تک مختلف مطالبات کیے ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع ایک جیل کے باہر جمعرات کو فلسطینی مظاہرین کی اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔اس جیل میں قید فلسطینی بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی ماضی میں بھی بھوک ہڑتالیں کرتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنی زیادہ تعداد میں اجتماعی بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔

اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد ایردان نے گذشتہ ہفتے رعونت بھرے لہجے میں کہا تھا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ان وزیر صاحب کے حکم پر مروان البرغوثی کو ایک اور جیل میں منتقل کردیا گیا ہے اور وہاں انھیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔