حماس کی اخوان سے لاتعلقی ، 1967ء کی سرحدوں میں فلسطینی ریاست کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی جماعت حماس نے اپنے نئے ضمنی منشور کا اعلان کردیا ہے۔اس میں اس نے 1967ء کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز کی حمایت کردی ہے اور مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔

حرکۃ مقاومۃ الاسلامیہ (حماس) کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے سوموار کے روز دوحہ میں جماعت کے اس ضمنی منشور کا اعلان کیا ہے۔اس کے مطابق حماس اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے مؤقف سے دستبردار ہوگئی ہے۔

حماس کے اس نئے اقدام کا مقصد خطے کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ان ممالک نے اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

اس ضمنی منشور میں حماس نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے فلسطینی علاقوں پر مشتمل ریاست کے قیام کی تجویز کو بھی باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حماس کی بین الاقوامی تنہائی کو کم کرنا ہے۔

تاہم تنظیم کا 1988ء میں اعلان کردہ اصل منشور جوں کا توں رہے گا اور مغربی ممالک کے مطالبے پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادی حماس سے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ یہ مزاحمتی تحریک اسرائیل کے فلسطینی سرزمین پر قیام کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتی ہے۔

خالد مشعل نے بتایا ہے کہ جماعتی انتخابات کے نتائج کا اعلان آیندہ چند روز میں کردیا جائے گا۔ حماس کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے اتوار کے روز فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ نئی قیادت کا 15 مئی سے قبل اعلان متوقع ہے۔

اس عہدہ دار کے بہ قول اسماعیل ہنیہ کو اسلامی تحریک مزاحمت کا نیا سربراہ نامزد کیا جاسکتا ہے۔ وہ دوحہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے حماس کے رہ نما خالد مشعل کی جگہ لیں گے۔وہ جماعت کے دو مرتبہ سربراہ رہ چکے ہیں اور تیسری مرتبہ انھیں جماعت کے آئین کے تحت منتخب نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں